واشنگٹن: ایک سینئر امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکی کسی بھی ملک کو ایران کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کی چھوٹ نہیں دے رہا اور یہ پابندیاں بھارت پر بھی عائد ہوں گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز صحافیوں کی ایک کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پابندیاں ایران میں بھارت کے اشتراک سے تیار ہونے والی چابہار بندرگاہ پر بھی لاگو ہوں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی پابندیوں کے پیشِ نظر کسی بھی مخصوص ملک کو پسِ پردہ کوئی چھوٹ نہیں دی جارہی کہ وہ ایران میں سرمایہ کاری کرے۔

مزید پڑھیں: بھارت کا براستہ ایران چاہ بہار افغانستان سے تجارت کاآغاز

ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ یہ پابندیان گزشتہ برس 4 نومبر کو عائد کی گئی تھیں وہ بھارت کے لیے مخصوص نہیں ہیں، جو تہران سے 25 فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور عراق کے بعد ایران، بھارت کو تیل فراہم کرنے والا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، اپریل 2017 سے لے کر جنوری 2018 تک ایران نے بھارت کو ایک کروڑ 84 لاکھ ٹن کروڈ آئل برآمد کیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ بات چیت ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کو جواب دہ بنانے کے مقصد پر گی گئی، اس میں مخصوص ایجنڈے پر بات نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ تاہم بھارت کے ساتھ امریکا کی امید بھی زیرِ بحث آئی جس میں امریکا چاہتا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک بھی جتنا جلدی ممکن ہوسکے ایران سے برآمدات کو صفر کردیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور بھارت مذاکرات، اہم دفاعی معاہدے پر دستخط

اس کے ساتھ ساتھ پابندیوں کی وجہ سے مارکیٹ میں مسائل پیدا نہ ہونے کی امریکی کوششوں پر بھی بات کی گئی۔

امریکی حکام کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نے بھارتیوں کو یقین دلایا ہے کہ بھارت کے لیے (تیل) کی مناسب سپلائی جاری رہے گی تاکہ وہ آسانی کے ساتھ ایرانی تیل کا متبادل ہوسکے۔

ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ہم نے چابہار کے حوالے سے سنا ہے کہ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کے لیے ایرانی بندرگاہ افغانستان میں تجارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ایک راستہ ہے۔

یاد رہے کہ 6 ستمبر کو امریکا اور بھارت کے ٹو پلس ٹو مذکرات میں دونوں ممالک کے درمیان اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق ہوا تھا اور ساتھ ہی اہم دفاعی اور مواصلاتی معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔