تھرکول منصوبے کے سیکڑوں ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کررہے ہیں جبکہ سندھ حکومت کے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت تھرکول منصوبے میں انڈر گراؤنڈ کول گیسی فکیشن (یوسی جی) کے ملازمین اور مزدوروں کی تنخواہوں کی مد میں 23 کروڑ فنڈ کے اجرا کے لیے وفاقی حکومت سے رابطے میں ہے۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے امتیاز احمد شیخ نے واضح کیا کہ میگا پراجیکٹ اس وقت کی وفاقی حکومت نے شروع کیا تھا اور فنڈ بھی دے رہی تھی جبکہ سندھ حکومت کو تھرکول فیلڈ کے صرف بلاک نمبر 5 پر سہولت کار کا کام دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب انہیں حال ہی میں کابینہ میں شامل کیا گیا تو اس کے فوری بعد ملازمین کو یقین دلایا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں کو مطلوبہ فنڈ کے اجرا کی یاد دہانی کے لیے بریفنگ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:تھر کے پہلے بجلی گھر منصوبے کا افتتاح

صوبائی وزیر نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ حکومت کے دوران بھی اسلام آباد میں حکام کو 450 ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے حوالے سے توجہ دلائی تھی جو 3 ماہ کی تنخواہ نہ ملنے پر احتجاج کررہے تھے۔

دوسری جانب یو سی جی ملازمین کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے ان کے مطالبات میں تنخواہوں کی فوری ادائیگی اور ملازمت کو مستقل کرنا شامل ہے۔

مظاہرین کی قیادت کرنے والے صفدر میمن، راجا گوہر، حافظ عبدالواحد سمیت دیگر مظاہرین نے اپنے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تھر کول کا وژن اصل میں سندھ سے تعلق رکھتا ہے دراصل یہ منصوبہ سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ کا تھا جس کو وفاقی حکومت، وزارت منصوبہ بندی اور اصلاحات کے ذریعے فنڈ دیتی تھی’۔

یہ بھی پڑھیں:تھرکول منصوبہ:مقامی افراد کو ملازمت نہ دینے پر وزیراعلٰی سے شکایت

یاد رہے کہ 2009 میں تجرباتی بنیاد پر کوئلہ نکالنے کے منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا اور 2011 میں 2 سال کی مدت میں ہدف کامیابی سے حاصل کرلیا گیا تھا۔

بعدازاں 2014 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے 1.6 ارب ڈالر کے تھر کول منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔

اس موقع پر کہا گیا تھا کہ منصوبے کا بلاک 2 ضلع تھرپارکر میں 79.6 اسکوائر کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے اور ایک اسٹڈی تجارتی اعتبار سے قابل عمل اور اس کے کسی قسم کے ماحولیاتی نقصانات نہیں ہیں۔

حکومت نے کہا تھا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں کوئلہ نکالا جائے گا جس سے سالانہ بنیادوں پر حاصل ہونے والے 3.8 ملین ٹن کوئلے سے 660 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور بعد میں اس کو مزید توسیع دیتے ہوئے سالانہ بنیادوں پر 6.5 ملین ٹن کوئلہ نکالا جائے گا جس سے 1300 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔

حکومت کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں اس کی توسیع کرتے ہوئے سالانہ 13.5 ٹن سے لے کر 19.5 ملین ٹن تک کوئلہ نکالا جائے گا جس سے کم از کم 2400 سے 3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی۔