اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے غذائی قلت کے شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہورہا ہے جو ترقی پذیر ممالک میں فصلوں کی پیداوار پر اثر انداز ہورہا ہے۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق غذا سے متعلق اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2017 میں غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد 82 کروڑ 10 لاکھ تک جا پہنچی جبکہ 2016 میں یہ تعداد 80 کروڑ 40 لاکھ تھی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ سے متعلق جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق ’غذائی قلت میں گزشتہ 3 سال سے اضافہ ہورہا ہے، جو ایک دہائی قبل کی سطح پر واپس جا پہنچا ہے'۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ’غذائی قلت میں کمی کا منفی سمت میں بڑھنا واضح تنبیہ ہے کہ 2030 تک دنیا میں غذائی قلت ختم کرنے کے مقاصد پورے کرنے کے لیے اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرنا ضروری ہے'۔

اقوام متحدہ کے مطابق جنوبی امریکا اور افریقہ میں غذائی قلت کی صورت حال بدترین ہے۔

مزید پڑھیں : ‘ملک کے 6 فیصد بچے غذائی قلت کاشکار‘

رپورٹ سے متعلق ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ ڈیوڈ بیسلے کا کہنا تھا کہ ’آج کے پیغام سے دنیا کو خوفزدہ ہونا چاہیے‘، انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی اور تنازعات عالمی سطح پر غذائی قلت میں اضافہ کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’موسمیاتی تبدیلی کے اثرات حقیقی ہیں‘ تاہم جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس کی وجوہات انسانی ہیں؟ تو انہوں نے تذبذب کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے تجزیے کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، شدید قحط اور سیلاب، گرم اور متعدل درجہ حرارت کے علاقوں میں گندم، چاول اور مکئی کی پیداوار میں کمی کا باعث بن رہی ہے اور درجہ حرارت میں اضافے سے صورتحال بدترین ہونے کے امکانات ہیں۔

رپورٹ میں غذائیت کی کمی کا آسان شکار بننے والے گروہوں کے لیے نئی پالیسیوں کی نشاندہی کی گئی، ان میں نوزائیدہ بچوں سمیت دیگر بچے، لڑکیاں اور خواتین شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : صومالیہ: بھوک کے باعث 48 گھنٹوں میں 110 افراد ہلاک

اقوام متحدہ نے موسمیاتی تبدیلیوں کو اپنانے اور ان کے خلاف مزاحمت کو فروغ دینے کے لیے مؤثر پالیسیوں پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

رپورٹ کے مطابق بچوں کی نشوونما کی کمی کو روکنے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات میں بہت کم بہتری آئی، 2017 میں 5 سال سے کم عمر 15 کروڑ 10 لاکھ بچوں کی نشوونما غذائیت کی کمی کے باعث اپنی عمر سے بہت کم تھی جبکہ 2012 میں یہ تعداد 16 کروڑ 5 لاکھ تھی۔

عالمی سطح پر افریقہ میں 39 اور ایشیا میں 55 فیصد بچے نشوونماکی کمی کا شکار ہیں۔

بیسلے کا کہنا تھا کہ اگر دنیا 7 ارب 50 کروڑ آبادی کے ہوتے ہوئے ہم غذائی قلت ختم کرنے میں ناکام ہور ہے ہیں تو آج سے 30 سال بعد کا انتظار کریں جب آبادی 10 ارب سے تجاوز کرجائے گی اور لندن، واشنگٹن، شکاگو اور پیرس میں لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ جہاں ایک جانب دنیا میں غذائی قلت میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری جانب بالغ افراد میں موٹاپا عروج پر ہے، خصوصاً شمالی امریکا کے علاقوں میں یہ صورتحال پائی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غذائیت کی کمی اور موٹاپا ایک ہی گھر میں بھی پائے جاسکتے ہیں، غریبوں کے پاس غذائیت کی استطاعت نہیں اور غذائیت سے بھرپور کھانا موٹاپے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

مزید پڑھیں : دس لاکھ افغان بچے غذائی کمی کا شکار

واضح رہے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے مطابق بریسٹ فیڈنگ موٹاپے سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی امریکا کے مقابلے میں افریقہ اور ایشیا میں 1.5 گنا زیادہ بریسٹ فیڈنگ کا رجحان پایا جاتا ہے جبکہ شمالی امریکا میں صرف ایک چوتھائی بچوں کو ہی 6 ماہ کی مدت تک ماؤں کا دودھ پلایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ماؤں کو جب تک ممکن ہوں بریسٹ فیڈنگ جاری رکھنی چاہیے'۔

رواں سال کے آغاز میں ڈبلیو ایچ او کو بریسٹ فیڈنگ کو ٖفروغ دینے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں ٹرمپ انتظامیہ پر بھی جواباً تنقید کی گئی تھی کہ وہ انفینٹ فارمولا دودھ بنانے والی کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ دے رہے ہیں۔