پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ 23 ستمبر کو ہونے والے میڈیکل کالج داخلہ ٹیسٹ کے موقع پر سگنل جیمرز کی تنصیب کو یقینی بنائے اور خبردار کیا کہ اب اگر پیپر لیک ہوا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

جسٹس قیصر رشید اور جسٹس قلندر علی پر مشتمل بینچ نے ایجوکیشن اینڈ ٹیسٹنگ ایویلوایشن ایجنسی (ٓای ٹی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو حکم دیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی امیدوار فون لے کر امتحان گاہ میں داخل نہ ہو۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل 19 اگست کو ہونے والے انٹری ٹیسٹ کو حکومت نے سوشل میڈیا پر امتحانی پرچہ لیک ہوجانے کے باعث منسوخ کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: انٹری ٹیسٹ کا امتحانی پرچہ لیک ہونے کی تحقیقات آئی بی کے سپرد

عدالت نے ای ٹی ای اے کے عہدیداروں کو خبردار کیا کہ اگر اب بھی امتحانی پرچہ خفیہ رکھنے میں ناکام رہے تو نیب خیبرپختونخوا کو ادارے کے معاملات کی تفصیلی تحقیقات کرنے کا حکم دیا جائے گا۔

اس کے ساتھ عدالت نے ای ٹی ای اے، نیب حکام اور صوبائی پولیس افسران کو ہدایت کی کہ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے انٹری ٹیسٹ میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جائے۔

عدالت نے پروویژنل پولیس آفیسر (پی پی او) صلاح الدین محسود کو ہدایت کی کہ امتحان گاہ کے باہر پولیس اہلکاروں کی قابلِ ذکر تعداد کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے اور غیر متعلقہ افراد کو سینٹر کے قریب نہ آنے دیا جائے۔

مزید پڑھیں: پشاور:آئی بی نے میڈیکل کالجزکے انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہونے کی تصدیق کردی

اس حوالے سے ای ٹی ای اے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سخت چیکنگ کے باوجود امیدوار امتحان گاہ تک موبائل فون لے جانے میں کامیاب ہوئے تھے، اگر پولیس کی جانب سے سگنل جامرز پہلے ہی لگا دیے جاتے تو صورتحال بہتر ہوتی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ہی پشاور ہائی کورٹ نے انٹری ٹیسٹ میں قبل از وقت پرچہ لیک ہونے کے معاملے کا نوٹس لیا تھا جس کی سماعت کے دوران ایک طالبہ نے بھی درخواست دائر کی تھی جس میں حج کی ادائیگی کے لیے ٹیسٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ ٹیسٹ کا امتحانی پرچہ لیک کرنے کے الزام میں ای ٹی ای اے کے ڈرائیور اور ایک کلرک کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ اعلیٰ افسران سے پوچھ گچھ بھی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ: پرچے لیک کرنے والے واٹس ایپ گروپوں کےخلاف کریک ڈاؤن

اس سے قبل انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی جانب سے 19 اگست کو ہونے والے ٹیسٹ میں پرچہ لیک ہونے کی تصدیق کے بعد 24 اگست کو ٹیسٹ منسوخ کردیا گیا تھا، آئی بی نے اس معاملے کی تحقیقات کےلیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی سفارش کی تھی۔