سپریم کورٹ: 10 سالہ بچے کی 11 سال بعد رہائی کا حکم

14 ستمبر 2018

ای میل

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کے الزام میں 10 سال کی عمر میں قید کیے گئے بچے کو 11 سال بعد رہا کرنے کا حکم دے دیا، تاہم 11 سال قید میں رہنے کے بعد 21 سالہ محمد عدنان کو ٹیوبر کلاسز (ٹی بی) ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے بچے کی بریت سے متعلق دائر اپیل پر سماعت کی۔

مزید پڑھیں: قتل کے ملزم کی 22 سال بعد رہائی کا حکم

دوران سماعت خاتون وکیل ملکہ صباح اور خواجہ محمد سعید ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ نے 10سال کے بچے پر 4 من سے زائد چرس کی برآمدگی کا الزام لگایا جبکہ منشیات برآمد کرنے والے تفتیشی افسر نے اپنے بیان میں کہا کہ منشیات کا مالک مقدمہ میں نامزد ایک ریاض نامی شخص تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے موکل پر منشیاب کے نمونے باحفاظت لے کر جانا بھی ثابت نہیں ہوتا جبکہ فارنزک رپورٹ میں بھی یہ بات واضح نہیں ہے۔

اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر پنجاب عبدالوحید نے عدالت کو بتایا کہ منشیات کے مقدمے کا 2 سال بعد چالان پیش ہونا بھی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔

دوران سماعت جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلہ کی روشنی میں اگر منشیات کے نمونے باحفاظت لے کر جانا ثابت نہ ہو تو ایسی صورت میں ملزم کی بریت کا مقدمہ بنتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ بچے کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

سماعت کے بعد ملکہ صباح ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ 11 سال قید میں رہنے سے لڑکے کو ٹی بی کا مرض لاحق ہوچکا ہے اور اسے جیل حکام ہر ہفتے فیصل آباد کے ہسپتال میں علاج کے لیے لے کر جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے لڑکے کو 13 سال کی عمر میں عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے 24 مارچ 2014 کو بریت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: قتل کا ملزم 14 سال بعد رہا

خاتون وکیل کا کہنا تھا کہ لڑکے کو 10 سال کی عمر میں شیخوپورہ کے علاقے فیروزوالا سے 8 اگست 2007 کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر الزام لگایا تھا کہ وہ چنگچی میں 4 من سے زائد چرس اور 180 گرام ہیروئن لے کر جارہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بچے کی سزا تقریباپوری ہونے والی ہے۔ بچے کو 10سال کی عمر میں شیخوپورہ کے علاقہ فیروز والا سے 8اگست 2007 کوگرفتار کیاگیا اورکہاگیا کہ وہ چنگ چی رکشے پر 4من3کلوچرس اور180گرام ہیروئن رکشے پرلے کر جارہاتھاجبکہ دیگرملزمان موقع سے فرارہوگئے تھے۔