وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں جاری پانی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبے اولین ترجیح ہیں اور عوامی مفاد میں ان کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں شہر میں جاری واٹر سپلائی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ عوامی مفاد میں ان منصوبوں کو مکمل کر لیا جائے گا۔

اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ میجر (ر) اعظم سلیمان خان، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت، سیکریٹری ٹرانسپورٹ حفیظ عمرانی، ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ اور پی ڈی- فور اسد زمان اور دیگر بھی شریک تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں مجموعی طور پر روزانہ کی بنیاد پر فی کس پانی کی طلب 54 گیلن ہے اور اس طلب کو پورا کرنے میں انتہائی کمی ہے۔

ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ نے کہا کہ بارشوں میں کمی کے باعث حب ڈیم میں پانی کی سطح 100 ایم جی ڈی سے 12 ایم جی ڈی تک کمی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: بجلی و پانی کے بحران پر ہڑتال اور مظاہرے

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی مجموعی سپلائی 493 ہے اور ٹرانسمیشن میں نقصان 148 ایم جی ڈی ہے اسی لیے سپلائی 345 میں کھڑی ہے اور 918 ایم جی ڈی کی طلب کے مقابلے میں 573 ایم جی دی کا واضح فرق ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں کو فراہم کیے جانے والے پانی کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ سائٹ ایریا کی طلب 80 ایم جی ڈی جس کے مقابلے میں 6 ایم جی ڈی فراہم کیا جارہاہے، فیڈرل بی ایریا کی طلب 20 ایم جی ڈی ہے لیکن صرف 3 ایم جی ڈی حاصل ہورہا ہے۔

اجلاس میں مزید کہا گیا ہے کہ لانڈھی کی طلب 50 ایم جی ڈی ہے اور 15 ایم جی ڈی فراہم کیا جارہا ہے، سپرہائی وے سائٹ ایریا کی طلب 50 ایم جی ڈی لیکن حاصل صرف ایک ایم جی ڈی ہے۔

شہر کے صنعتی علاقوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صنعتی علاقوں کی طلب 200 ایم جی ڈی ہے اور ان علاقوں کو 25 ایم جی ڈی فراہم کیا جارہا ہے اور فرق 175 ایم جی ڈی رہ جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ وہ شہر میں پانی کی طلب اور صنعتوں کی ضروریات پر یکساں توجہ دے رہے ہیں اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پانی کی صفائی کا ایک پلانٹ لگایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پانی کی کمی کے شکار علاقوں کو ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے پانی کے مفت ٹینکرز فراہم کیے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں:کراچی میں گرین لائن ریپڈ بس سروس کا سنگ بنیاد

وزیراعلیٰ نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو شہر میں جاری 4 اہم منصوبوں کو مکمل کرنے کی ہدایت کی تاہم ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا کہ یہ منصوبے دسمبر 2020 میں مکمل ہوں گے اور 14 کروڑ 30 لاکھ کی 100 ایم جی ڈی پمپ ہاؤس اسکیم کو مارچ 2019 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

مراد علی شاہ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں کراچی میں جاری گرین لائن بس سروس کے حوالے سے صالح فاروقی نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی اور کہا کہ سرجانی سے میونسپل پارک تک 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور اس منصوبے کی لاگت 17 ارب 85 کروڑ تھی۔

انہوں نے کہا کہ گرومندر کوریڈور 21 کلومیٹر تک ہے جس کو مکمل کرلیا گیا ہے اسی طرح ایک کلومیٹر کا عبدالستار ایدھی انٹرچینج بھی مکمل ہوا ہے جبکہ 24 بی آر ٹی اسٹیشنز تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور دسمبر 2018 کے اواخر تک مکمل ہوجائیں گے۔

صالح فاروقی کا کہنا تھا کہ سرجانی میں بسوں کا ڈپو، پارکنگ، صفائی، ایندھن اور مینٹی نینس کے حوالے سے 60 فیصد کام ہوچکا ہے، آپریشن کمانڈاینڈ کنٹرول کی عمارت مکمل ہوچکی ہے لیکن اس کو حتمی شکل دینے کا کام جاری ہے۔

خیال رہے کہ گرین لائن منصوبہ انٹرسیکشنز سمیت 24 کلومیٹر طویل منصوبہ ہے جس میں 12 اعشاریہ 7 کلومیٹر فلائی اوور اور 10.9 کلومیٹر زمینی ہے اور 422 میٹر زیرزمین ہے جبکہ اس کے 25 اسٹیشنز ہیں۔

صالح فاروقی کا کہنا تھا کہ گرومندر سے میونسپل پارک تک فیز 2 کامن کوریڈور کی لمبائی 2 اعشاریہ 5 کلومیٹر ہے جس میں ایم جناح روڑ پر 2 انڈر پاسز بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیرزمین اسٹیٹ آف دی آرٹ بس ٹرمینل میں پارکنگ کی سہولت اور کمرشلم میزنائن فلور بھی تعمیر کیے جارہے ہیں اور اس کا20 فیصد کام ہوچکا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نمائش سے میونسپل پارک تک کامن کوریڈور کا نقشہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک نے تیار کیا تھا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ‘میں جانتا ہوں کہ یہ ڈیزائننگ کا کام کچھ وقت لے گا لیکن اب اس میں تیزی لائی جائے’ اور میں کوشش کر رہاہوں کہ منصوبے جتنا ہوسکے جلدی شروع کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔