جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد جنگ کے بعد بنائے گئے ملکی آئین کو تبدیل کرنے کا عندیہ دے دیا۔

واضح رہے کہ شنزو آبے کو وزیر اعظم کے لیے امیدوار نامزد ہونے کے لیے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی ( ایل ڈی پی) کے اراکین پارلیمنٹ سے 70 فیصد ووٹ حاصل ہوگئے ہیں اور یہ خیال کیا جارہا ہے کہ دوبارہ انتخابات سے انہیں 3 سال کا مزید وقت مل جائے گا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق جاپان میں 20 ستمبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل انہوں نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر سابق وزیر دفاع سے مسائل پر بحث کی تھی۔

مزید پڑھیں: جاپان: اسکول سے جنگ عظیم دوم کا فوجی سامان برآمد

جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے پر دکھائے جانے والی اس تقریب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے ملکی آئین پر نظر ثانی کروں گا جسے جنگ کے بعد کیا جانا تھا تاہم یہ کام آج تک نہیں ہوسکا’۔

واضح رہے کہ 63 سالہ شنزو آبے دسمبر 2012 میں جاپان کے وزیر اعظم بنے تھے۔

انہیں لبرل ڈیموکریٹس کے 5 گروہوں سمیت دیگر مقامی پارٹی ممبران کی حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان میں تیار منشیات کی جانچ کرنے والی 200 کٹس پاکستانی حکام کے حوالے

امریکا کی جانب سے 1947 میں بننے والے آئین کی تبدیلی، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے پرانے منشور میں شامل رہا ہے جو جاپان کے سابق وزیر اعظم اور شنزو آبے کے دادا نوبوسوکی کیشی کی نظر میں عالمی جنگ دوئم میں جاپان کو شکست کے بعد ملک کی تضحیک کے لیے بنایا گیا تھا۔

آبے کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ان کی جماعت رواں سال کے آخر میں پارلیمانی سیشن کے دوران ڈرافٹ جمع کرادے گی۔

رپورٹ کے مطابق آبے آئین کے آرٹیکل 9 کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ آرٹیکل جاپان کی حکومت کو صرف اپنے بچاؤ کے لیے فوج کا استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے اور عالمی تنازع کے حل کے لیے اس کے استعمال سے روکتا ہے۔