بھارت: ریپ کے الزام میں پولیس افسر کا بیٹا گرفتار

14 ستمبر 2018

ای میل

—فوٹو  : این ڈی ٹی وی
—فوٹو : این ڈی ٹی وی

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں خاتون پر بہیمانہ تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے حکم پر پولیس افسر کے بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نارکوٹکس ڈویژن میں تعینات دہلی پولیس افسر کے بیٹے روہت سنگھ تومار کو پولیس نے خاتون پر تشدد کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

بھارتی وزیر داخلہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا تھا کہ ’خاتون پر بہیمانہ تشدد کیے جانے کی ویڈیو میرے علم میں آئی ہے، میں نے دہلی پولیس کمشنر (امولیا پٹنائک) سے بات کرکے ضروری کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے’۔

پولیس کا کہنا تھا کہ 2 خواتین کے بیانات کی روشنی میں 2 علیحدہ مقدمات درج کیے گئے، ایک ریپ کے الزام میں اور دوسرا تشدد کیے جانے پر درج ہوا'۔

خیال رہے کہ چند روز قبل انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا تھا، جس میں ایک شخص خاتون کو فرش پر گرانے کے بعد اسے بالوں سے گھسیٹ رہا تھا اور مسلسل اسے تھپڑ اور پاؤں سے تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا۔

مزید پڑھیں : بھارت میں روسی خاتون سیاح کا گینگ ریپ

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ملزم، خاتون کو زیادہ ایذا پہچانے کے لیے اپنے گھٹنوں اور کہنی کا استعمال کررہا تھا۔

خاتون پر کیے گئے بہیمانہ تشدد کی ویڈیو میں ملزم کے دوست کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی، جو کہہ رہا تھا کہ ’روہت، رک جاؤ، بہت ہوگیا‘، لیکن اس کے دوست یا کسی اور شخص نے ملزم کو بذات خود روکنے کی کوشش نہیں کی۔

ٹوئٹر پر بڑے پیمانے پر وائرل ہونے والی اس فوٹیج سے متعلق اطلاعات ہیں کہ یہ واقعہ 2 ستمبر کو دہلی کے علاقے اتم نگر میں ایک کال سینٹر میں پیش آیا تھا۔

گزشتہ روز تک اس واقع سے متعلق کوئی شکایت درج نہیں کروائی گئی تھی بعد ازاں ایک خاتون نے شکایت درج کروائی اور حملہ آور کی منگیتر ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔

خیال رہے کہ ایف آئی درج کروانے والی خاتون ویڈیو میں موجود نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت میں ریپ کے بڑھتے واقعات، لڑکیاں دفاع کیلئے اقدامات پر مجبور

مذکورہ خاتون نے پولیس کو بتایا تھا کہ ویڈیو میں اپنے منگیتر کو ایک خاتون کو بری طرح پیٹتے ہوئے دیکھ کر اس نے اپنی شادی توڑ دی۔

علاوہ ازیں اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ روہت اپنے دفتر میں ساتھی خاتون کو پیٹ رہا تھا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خاتون پر تشدد کی ویڈیو پولیس کے علم میں 13 ستمبر کو ایف آئی آر درج ہونے پر آئی تھی۔

بعد ازاں پولیس نے ویڈیو میں موجود خاتون سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم جمعہ کے روز متاثرہ خاتون نے پولیس سے رابطہ کیا اور اپنا تحریری بیان بھی دیا۔

اپنے تحریری بیان میں خاتون نے الزام لگایا کہ روہت تومار نے اسے اپنے دوست کے دفتر بلا کر ریپ کیا تھا، جب اس نے پولیس تک جانے کی دھمکی دی تو اس نے مارنا شروع کردیا تھا۔

ملزم روہت تومار کو دفعہ 376،323 اور 354 کے تحت گرفتار کیا گیا جبکہ کیس درج کیے جانے کے بعد خاتون کو میڈیکل ایگزامینیشن کے لیے بھی بھیج دیا گیا۔