خواتین کو وراثتی حقوق کی فراہمی کیلئے آگاہی مہم شروع

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2018

ای میل

وفاقی وزارت انسانی حقوق نے عوام کو اسلامی قوانین اور آئین کے مطابق خواتین کے وراثتی حقوق کے حوالے سے آگاہ کرنے کے لیے مہم کا آغاز کردیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق کی آگاہی مہم شروع کردی گئی ہے۔

وفاقی وزارت انسانی حقوق کی جانب سے ویڈیو پیغام میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ ‘یہ افسوس کا مقام ہے کہ معاشرتی طور پر ہمارا خاندانی نظام ایسا ہے کہ خواتین کو مختلف حیلے، بہانوں سے ان کے حقیقی اور جائز حق سے محروم کردیا جاتا ہے’۔

اس مہم کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ‘خواتین کے وراثتی حق وزیراعظم عمران خان کی پاکستان میں برابری اور انصاف کی جدوجہد کا ایک اہم حصہ ہے’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘ہم فخر سے یہ اعلان کررہے ہیں وزارت انسانی حقوق اس معاملے سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے مہم کا آغاز کرے گی’۔

یہ بھی پڑھیں:شیریں مزاری کی ہیومن رائٹس واچ کی ’تنگ نظری‘ پر تنقید

وفاقی وزارت انسانی حقوق اس مہم کے دوران عوام کو پاکستان میں خواتین کو مذہبی اور قانونی حوالے سے حاصل وراثتی حقوق سے آگاہ کرے گی۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنے پیغام میں کہا کہ ‘کبھی تو لاعلمی میں ان سے انگوٹھے اور دستخط حاصل کرائے جاتے ہیں اور کبھی ان کو جذباتی کیفیت کا شکار کیا جاتا ہے، اس طرح ان کو جائز حق سے محروم کردیا جاتا ہے، یہ طریقہ کار صریحاً قرآن پاک کی تعلیمات کے خلاف ہے جبکہ احادیث اور آئین پاکستان کے بھی خلاف ہے’۔

انہوں نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے کہا کہ ‘خواتین کو میراث میں مکمل حق حاصل ہے، قرآن پاک اور احادیث نبوی اس حوالے سے بہت واضح ہے’۔

مزید پڑھیں:حکومت کی اولین ترجیحات میں انسانی حقوق کو شامل کیا جائے، ہیومن رائٹس واچ

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے خواتین کے وراثتی حقوق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان کا آئین بھی اس سلسلے میں زبردست رہنمائی فراہم کرتا ہے 1973 کے آئین کی دفعات 23 اور 24، میراث کے سلسلے میں پوری تفصیلات فراہم کرتی ہیں اور خواتین کی میراث کے سلسلے میں بھی بہت وضاحت کے ساتھ دفعات شامل ہیں’۔

وفاقی وزارت کی جانب سے اس سلسلے میں ایک ہیلپ لائن نمبر 1099 بھی جاری کیا گیا ہے جس کے ذریعے بلامعاوضہ قانونی مشاورت دی جائے گی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پارٹی کی سینئر رہنما شیریں مزاری کو انسانی حقوق کی وفاقی وزیر مقرر کیا تھا جس کے بعد انہوں نے ایک بیان میں ہیومن رائٹس واچ ایشیا کی جانب سے لکھے گئے خط پر شدید تنقید بھی کی تھی۔