غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے بچے سمیت 3 فلسطینی جاں بحق

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2018

ای میل

—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

غزہ کی سرحد پر ہونے والی تازہ جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 12 سالہ بچے سمیت 3 فلسطینی جاں بحق اور کم از کم 50 افراد زخمی ہوگئے۔

حماس کی وزارت صحت کے مطابق 12 سالہ شادی عبدالعال کو غزہ کے شمالی علاقے جبالیا میں نشانہ بنایا گیا جبکہ اس سے قبل ان کی شناخت 14 سالہ مصطفیٰ عابد ربو کے نام سے ظاہر کی گئی تھی۔

وزارت صحت کا کہنا تھا کہ 2 نوجوانوں ہانی افنان اور محمد شکورا کو غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس اور البوریج میں الگ الگ جھڑپ میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی فوج کی فائرنگ، فلسطین میں 2014 کے بعد بدترین خونی دن

—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 50 افراد زخمی بھی ہوئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں موجود سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک اسرائیلی ٹینک نے شہر کے مشرقی علاقے میں قائم حماس کے دفتر کو بھی مسمار کیا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ فسادات میں 13 ہزار افراد ملوث تھے جو مختلف علاقوں میں ٹائر جلارہے تھے اور دستی بموں سے حملہ کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ رواں سال 30 مارچ کو غزہ میں اسرائیل کے خلاف ہونے والے ایک احتجاج کے دوران جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔

اس دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 179 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں سے اکثر کو احتجاج کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم ان جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی فوجی کے ہلاک ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آچکا ہے۔

مزید پڑھیں:فلسطین: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 15 جاں بحق، 1400 سے زائد زخمی

—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

اسرائیل نے سرحد کو بند کرکے غزہ کو دنیا سے منقطع کر رکھا ہے اور ان کا موقف ہے کہ حماس کو تنہا کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے جبکہ 2008 سے اب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان 3 جنگیں بھی لڑی جاچکی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے علاقے میں رہائش پذیر 20 لاکھ افراد کو مشترکہ سزا دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے ایک ہفتے پرتشدد احتجاج اور جھڑپوں کے بعد گزشتہ روز صرف عام شہریوں کو غزہ جانے کے لیے سرحد مکمل طور پر کھول دی تھی۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایویگدور لیبرمین کا کہنا تھا کہ سرحد کو پرامن رہنے کی شرط پر کھولا جاتا ہے۔