افسانہ: یادداشت کی تلاش میں

08 نومبر 2018

ای میل

خط کے لفافے پر ٹکٹ لگاتے لگاتے اُس کی یادداشت جیسے ختم ہی ہوگئی ہے، اُسے سب کچھ بھول گیا حتیٰ کہ یہ بھی کہ لفافے پر لگائے اِن 2 ٹکٹوں کا مطلب کیا ہے۔

جیسے بلب جل رہا ہو، روشنی ہو اور یکبارگی ہی اندھیرا چھا جائے۔

اُس نے لفافے کو دیکھا پھر اپنے ہاتھوں کو، اُسے سمجھ نہ آئی کہ اُس کا یہاں آنے کا مقصد کیا تھا اور اٹھ کر کھڑکی تک آیا جہاں ڈاک خانے کا ملازم خط کے لفافوں پر مہریں لگارہا تھا۔

’وہ بات سنیں، یہ دیکھیں‘ یہ کہہ کر اُس نے خط کا لفافہ ملازم کے سامنے کرکے اُسے دکھایا۔

ملازم نے خط کے لفافے کی جانب دیکھا اور کہا۔

’میں نے آپ کو 3 ٹکٹ دیے تھے، دو 15 روپے والے اور ایک 10 روپے والا ٹکٹ، آپ اس خط پر تینوں ٹکٹ لگائیں، تیسرا ٹکٹ آپ نے اب تک اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے، اسے بھی لفافے پر لگائیں، دوسرے شہر میں ڈاک 40 روپے میں جاتی ہے۔‘

’40 روپے میں؟‘ اُس نے لفظ دہرائے۔ وہ بھول گیا تھا کہ 40 کتنے ہوتے ہیں، اُس نے لفافے پر موجود 2 ٹکٹوں کو دیکھا اور کہا

’یہ کتنے روپے کا ٹکٹ ہے؟‘

’جناب میں نے آپ کو ابھی تو بتایا ہے کہ یہ 10 روپے کا ٹکٹ ہے، اسے بھی خط کے لفافے پر لگادیں۔‘

’جی اچھا، تو یہ دوسرے شہر پہنچ جائے گا‘ اُس نے پریشانی کے عالم میں پوچھا۔

’جی ہاں، اب جلدی کریں، ٹکٹ لگا کر لفافہ مجھے دیں تاکہ تمام خط آج کی ڈاک سے بھیج دیے جائیں۔‘

اُس نے خط پر ٹکٹ لگایا اور پوسٹ آفس سے باہر نکل آیا۔ وہ بے حد پریشان تھا کہ اُس سے تمام ہندسے گم ہوگئے تھے، اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ 10، 20، 50 کیا اور کتنا ہے، وہ یہاں کیوں آیا تھا اور اُس نے واپس کہاں جانا تھا۔

ایسا ایک 2 بار پہلے بھی کچھ منٹ کے لیے اُس کے ساتھ ہوا تھا کہ وہ سب بھول گیا تھا، لیکن اب کی بار یہ دورانیہ کافی طویل ہوچکا تھا۔ پچھلی بار جب وہ رکشہ سے اُترا، کرایہ ادا کیا تو اُسے اندر سے ’کدھر؟ کدھر؟ کدھر؟‘ کی آواز آنے لگی۔ وہ تھوڑی دیر فٹ پاتھ پر کھڑا رہا اور خود سے پوچھتا رہا کہ وہ کدھر جارہا ہے۔ پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر سارے کاغذ نکالے، گھر کے سودا سلف کی ایک لمبی فہرست، بجلی اور گیس کے بلز، بچوں کے اسکول فیس کارڈز۔۔۔ اُسے سب یاد آگیا تھا۔ لیکن ابھی اُسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا۔

’وہ آدمی گلی نمبر 7 سے مین سڑک تک 8 کلومیٹر روزانہ پیدل چل کر کیوں جاتا ہے؟‘

کیونکہ وہ پیسے بچانا چاہتا ہے، اُس کے پاؤں میں چھالے پڑجاتے ہیں جس کے لیے وہ رات پاؤں گرم پانی میں تھوڑی دیر رکھتا ہے اور اپنے بیوی بچوں کی جانب دیکھتا ہے جو اُس سے خوش نہیں رہتے کیونکہ وہ اُن کی خواہشات پوری نہیں کرپاتا لیکن وہ چاہتا ہے کہ وہ انہیں خوش رکھے سو وہ پیدل جاتا ہے۔

چوتھا سال ہے اُس کی ترقی نہیں ہورہی لیکن اُس کا کنبہ لگاتار بڑھ رہا ہے۔ اُس کی بیوی اُس سے روز جھگڑتی ہے، وہ شادی سے پہلے بھی غریب تھی اور شادی کے بعد بھی غریب ہے۔ وہ اُسے خوش رکھنے کے لیے روپے بچاتا ہے دوپہر کا کھانا یہ کہہ کر نہیں کھاتا کہ وزن کم کرنا ہے حالانکہ اُس کا وزن لگاتار کم ہورہا ہے جیسے اُس کے سر کے بال کم ہورہے ہیں، لیکن وہ شیشے کے آگے بہت تھوڑی دیر کے لیے ٹھہرتا ہے۔

مہینے میں ایک بار ٹائی باندھتا ہے اور اُس کی گرہ پھر نہیں کھولتا۔ اُس کی بیوی دیر سے جاگتی ہے لہٰذا وہ ناشتہ اور اپنے کپڑے خود استری کرتا ہے۔ لیکن وہ اکثر یہ دونوں کام نہیں کرتا کیونکہ اُسے دیر ہوجاتی ہے اور اُسے گلی نمبر 7 سے مین سڑک تک 8 کلومیٹر چلنا ہوتا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے وہ پورے 15 روپے بچا لیتا ہے۔ ان 15 روپوں سے دودھ کا چھوٹا پیکٹ آجاتا ہے۔ چوتھے بچے کی پیدائش آپریشن سے ہوئی جس کے لیے اُسے قرض لینا پڑا، اب تنخواہ سے وہ 3 ہزار روپے قسط ادا کرتا ہے جو پچھلے 2 ماہ سے نہیں دے سکا۔

آج کل وہ گلی کے سامنے کی طرف سے اندر داخل نہیں ہوتا کہ دکاندار کو بھی 3 ماہ سے سودا سلف کے پیسے نہیں دے سکا کیونکہ بچوں کی فیس بڑھ چکی تھی۔ اُن کی کاپیاں کتابیں، بیگ اور یونیفارم لینے کے بعد اُس کے پاس بہت کم روپے باقی بچے تھے۔ اُس کا خیال تھا کہ شاید اِس سال اُس کی تنخواہ بڑھ جائے تو حالات بہتر ہوجائیں لیکن پھر یہ دن آیا کہ اُس کی یاداشت گم ہوگئی۔

وہ سڑک کنارے کھڑا سوچ رہا تھا کہ اُسے اب کہاں جانا چاہیے وہ یقیناً کہیں سے آیا تھا لیکن اب چند ہی لمحوں میں اُس کی یاداشت گم ہوگئی تھی، اب تمام راستے اُس کے اپنے تھے جو کہیں بھی نہیں جاتے تھے۔

سڑک کنارے کھڑا وہ ذہن پر دباؤ ڈال کر سوچ رہا تھا کہ وہ کون ہے، اچانک ایک رکشہ اُس کے پاس رکتا ہے۔

’بابو چلنا ہے؟‘ رکشے والے نے پوچھا۔

’جی جی بالکل، میں نے گھر جانا ہے۔‘ اُس نے کہا۔

’لے چلتے ہیں جی آپ کو گھر، کہاں پر ہے؟‘ رکشے والے نے پوچھا۔

’معلوم نہیں، مجھے پہلے تو پتا تھا مگر ابھی یاد نہیں آرہا ہے۔‘

’کوئی نشانی؟‘

’ایک گلی ہے، جس میں نیلے رنگ کا گیٹ ہے۔‘

’گلیاں تو لاکھوں ہیں اور نیلے گیٹ بھی ہزاروں ہیں۔‘

’گلی اور گھر کا نمبر بتائیں۔‘

’نمبر؟‘

’جی نمبر‘

اس نے ذہن پر بہت زور دیا لیکن اُسے کوئی نمبر یاد نہ آسکا۔

’آہ افسوس مجھے کوئی نمبر یاد نہیں‘ اُس نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔

’آپ اب کہاں جائیں گے؟‘ رکشے والے نے پوچھا۔

’گھر جاؤں گا جو مجھے معلوم نہیں کہاں ہے۔‘

’یہیں کہیں ڈھونڈیں شاید مل جائے‘ یہ کہہ کر رکشے والا چلا گیا۔

وہ سڑک کنارے حیران و پریشان کھڑا تھا اُسے کچھ بھی یاد نہیں تھا۔

’اب میں کہاں جاؤں‘ دکھ کی شدید لہر اُس کے اندر سے اُٹھی اور وہ رونے لگا، پاس گزرتے ایک آدمی نے اُسے روتا دیکھ کر پوچھا۔‘ جناب خیریت؟ آپ رو کیوں رہے ہیں، کوئی مسئلہ ہے؟‘

’جی مجھ سے گھر گم گیا ہے۔‘ اُس نے روتے ہوئے کہا۔

’گھر گم گیا ہے؟ کیا مطلب، آپ ایڈریس بتائیں میں آپ کی مدد کرتا ہوں۔‘

’ایڈریس ہی گم گیا ہے۔‘ اُس نے روتے ہوئے بتایا۔

’کوئی مسئلہ نہیں، کیا آپ اس شہر میں نئے آئے ہیں؟ کسی دوست رشتہ دار کو فون کرلیں‘ اُس آدمی نے کہا اور چل دیا۔

اُس نے موبائل نکالا، سارے نمبر اُسے ایک سے دکھائی دینے لگے وہ پریشانی کے عالم میں سڑک کے کنارے چلنے لگا۔

ایک اور رکشے والا رک کر کہتا ہے، ’بیٹھیں جی، آپ مین سڑک پر جانا چاہتے ہیں تو 50 روپے دے دیں، چھوڑ آتا ہوں، اِس گرمی میں کیا پیدل چلیں گے۔‘

’50 روپے؟‘

’زیادہ ہیں؟ چلیں آپ 40 دے دیجیے گا۔‘

’40؟‘ اُس نے حیرت سے لفظ دہرائے۔

’یہ بھی زیادہ ہیں کیا؟‘

’40 کتنے ہوتے ہیں؟‘ اُس نے پوچھا۔

’40، 40 ہوتے ہیں جی اور کتنے ہوتے ہیں۔‘

اُس نے ذہن پر زور دیا لیکن اُسے گنتی مکمل طور پر بھول چکی تھی، اُس نے گلی میں دوڑ لگادی۔

رکشے والا اُسے آوازیں دیتا رہا، ’30 دے دیں جناب۔‘

لیکن وہ بھاگتا رہا، بھاگتا رہا حتیٰ کہ نیلے دروازے والے اپنے گھر پہنچ گیا۔؎

اُس کی بیوی نے اُسے دیکھتے ہی کہا، ’اتنی دیر کہاں لگا دی، ایک خط ہی تو پوسٹ کرنا تھا، کتنے روپے خرچ ہوئے ہیں؟‘

’معلوم نہیں‘ اُس نے بتایا۔

’کیا مطلب، معلوم نہیں؟ ایک تو تم روپے پیسے کا بالکل حساب نہیں رکھتے۔ بجلی کا بل معلوم ہے اس دفعہ پورے 3 ہزار آیا ہے اور بچوں کی فیس کے بھی 5 ہزار دینے ہیں اور تمہاری تنخواہ ہے کہ مل نہیں رہی، اچھا ابھی تمہارے پاس کتنے روپے ہیں، میں نے شاپنگ کرنے جانا ہے۔‘

اُس نے جیب سے بٹوا نکالا، نوٹوں کو دیکھا لیکن اُسے گنتی بھول چکی تھی، اُس نے گھبرا کر بٹوا بیگم کو دے دیا۔

پڑھیے: افسانہ: برفی

اُس کی بیوی نے بٹوا اُس کے ہاتھ سے لیا، نوٹوں کو گنا اور کہا، ’بس 1500 روپے؟ اِس سے بھلا کیا شاپنگ ہوگی۔ منصور صاحب کو دیکھو تمہارے ہی دفتر میں کام کرتے ہیں، انہوں نے نیا گھر بنالیا ہے اور ایک تم ہو جیب میں 1500 روپے لے کر پھرتے ہو، تم سے شادی کرکے میری تو زندگی عذاب ہوگئی ہے، چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو ترس گئی ہوں۔‘

اُسے بیوی کی باتیں بالکل سمجھ نہیں آرہی تھیں وہ گنتی سے آزاد ہوچکا تھا اُس نے کہا

’1500 کم ہوتے ہیں؟‘

’نہیں نہیں بہت زیادہ ہوتے ہیں، محل بن سکتا ہے ان سے۔‘

’زیادہ کتنے ہوتے ہیں؟‘

’زیادہ جتنے مرضی ہوں، کم ہیں۔‘

وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، ٹانگیں سیدھی کیں، چہرے کو ہاتھوں سے چھپایا اور رونے لگا۔

’تمہیں کیا ہوگیا ہے یہ تم رو کیوں رہے ہو؟‘ اُس کی بیوی نے حیرت سے اُس کی جانب دیکھ کر پوچھا کہ اُس کی نظر اُس کی جوتوں پر پڑی

’آپ کے جوتوں کے تو تلوے ہی نہیں ہیں۔۔۔‘