تحریک انصاف کے ڈاکٹر شہزاد وسیم پنجاب سے سینیٹر منتخب

اپ ڈیٹ 03 اکتوبر 2018

ای میل

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر شہزاد وسیم پنجاب اسمبلی سے سینیٹر منتخب ہو گئے۔

ڈاکٹر شہزاد وسیم نے مجموعی طور پر 351 ووٹوں میں سے 181 ووٹ لے کر مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ احمد حسان کو شکست دی، لیگی رہنما نے 169 ووٹ حاصل کیے جبکہ ایک ووٹ مسترد ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابات میں شکست، مسلم لیگ (ن) میں اندرونی اختلافات مزید بڑھنے لگے

واضح رہے کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کی خالی کردہ نشست پر انتخابات ہوئے تھے۔

اپوزیشن جماعت نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزام لگایا اور کہا کہ اپوزیشن جماعت کے ارکان کے لیے داخلی دروازے بند کردیئے گئے جبکہ حکومتی ارکان کو داخلے کی اجازت دی گئی۔

اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے وارثی نے بتایا کہ ’میں اسمبلی میں موجود تھا ہمارے دروازے بند کردیئے گئے جبکہ دوسرے دروازے کھلے رکھے گئے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے سامنے دھاندلی کی گئی، آج کے دن 25 جولائی کی یاد تازہ ہوگئی‘۔

مزید پڑھیں: 'عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو شکست ہوگی'

مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ ’پنجاب چیف الیکشن کمشنر نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا اور ان سے ’فوری طور پر مستعفی‘ ہونے کا مطالبہ کیا۔

بعدازاں ڈاکٹر وسیم نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اعتماد کے اظہار پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے اتحادیوں کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘۔

ڈاکٹر وسیم کا کہنا تھا کہ ’میں سینیٹ میں پنجاب کے حق بھرپور طاقت سے لڑوں گا اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کروں گا‘۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر ویسم تحریک انصاف کے سینئر رہنما ہیں اور سیاسی جماعتوں کے خارجہ امور پر عمران خان کے مشیر بھی رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حمزہ شہباز شریف کے جوتے پالش نہیں کر سکتا،زعیم قادری

وہ 08-2002 کے درمیانی عرصے میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹر بھی رہے۔

بعدازاں انہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ میں بطور وزیر ریاستی امور فرائض انجام دیئے۔

بعد ازاں پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر علیم خان نے مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ مسترد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی پارٹی کو توقعات سے کم ووٹ ملے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ووٹوں میں کمی نہیں آئی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے بعض رہنما ملک سے باہر ہیں اور ان کا ایک ووٹ مسترد ہوا‘۔