اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی سیاست سے تاحیات نااہلی کے بعد جہاں (ن) لیگ کی صدارت کا بھاری بوجھ شہباز شریف کے کاندھوں پر آگیا، وہیں 25 جولائی کے انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف ہونے کا اعزاز بھی انہیں ہی حاصل ہوا۔

مگر ابھی یہ اعزاز حاصل کئے انہیں مہینہ نہیں گزرا تھا کہ قومی اسمبلی کے خنک آرام دہ اپوزیشن چیمبر سے اٹھا کر انہیں داخل زنداں کردیا گیا۔ قومی اسمبلی کے مروجہ رولز اینڈ ریگولیشن کے مطابق ایک منتخب رکن اسمبلی کو گرفتار کرنے سے پہلے متعلقہ تفتیشی اداروں کو اسپیکر اسمبلی سے اجازت لینی ضروری ہوتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ گرفتاری کی صورت میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اسمبلی سیشن کے دوران وہ گرفتار ممبر کو اسمبلی تک لانے کا انتظام کرے۔

اسمبلی کے اندر اُس کے ہاتھ بھی کھلے ہوتے ہیں اور زبان بھی اور ہاں دیگر ارکانِ اسمبلی کی طرح ایک رکن اسمبلی کی حیثیت سے تنخواہوں، الاؤنسز سمیت دیگر مراعات کا بھی وہ استحقاق رکھتا ہے۔

مزید پڑھیے: شہباز شریف کی گرفتاری پہلا قدم ہے، فواد چوہدری

تحریک انصاف کی حکومت میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کو احتساب عدالت سے گرفتار کرتے وقت نیب ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے اس کی اجازت لے لی تھی۔ ممتاز ماہرِ قانون علی ظفر نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ نیب کا موقف اپنی جگہ مگر گرفتاری کی ٹائمنگ درست نہیں تھی کیونکہ ضمنی انتخابات سے محض ہفتے بھر پہلے یوں اپوزیشن لیڈر اور پارٹی قائد کی گرفتاری سے تحریک انصاف کی حکومت اور قیادت کی کریڈیبلیٹی متاثر ہوگی۔

وطنِ عزیز میں بہرحال ساری دنیا کی طرح حکومت کے مخالفین کی گرفتاریاں کوئی نئی بات نہیں، پھر چاہے وہ محض رکن ہو یا اپوزیشن کا لیڈر۔ بدقسمتی سے بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد ہی سے منتخب حکومتوں کی غیر آئینی برطرفی اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ہاں فرق بس یہ ہے کہ اُس وقت بیشتر مخالفین کی گرفتاری کا سبب ’کرپشن‘ کے بجائے ملک سے غداری اور حکومت سے بغاوت ٹھہرائی جاتی تھی۔

خان عبد الغفار خان، میر غوث بخش بزنجو، عبدالصمد اچکزئی، شیخ مجیب الرحمان، جی ایم سید سمیت سیاسی رہنماؤں ایک طویل فہرست ہے جو 1947ء سے 1958ء کی لولی لنگڑی جمہوریت کے دوران قید و بند میں رکھے گئے۔ پھر جب فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب کی فوجی آمریت کا دور آیا تو بات گرفتاریوں سے بڑھ کر پھانسیوں تک جاپہنچی تھی۔

بدقسمتی سے بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد ہی سے منتخب حکومتوں کی غیر آئینی برطرفی اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ہاں فرق بس یہ ہے کہ اُس وقت بیشتر مخالفین کی گرفتاری کا سبب ’کرپشن‘ کے بجائے ملک سے غداری اور حکومت سے بغاوت ٹھہرائی جاتی تھی۔

ایوبی آمریت کے دوران سب سے بھیانک ماورائے عدالت قتل مشہور کمیونسٹ رہنما حسن ناصر کا تھا جنہیں لاہور کے شاہی قلعے میں 13 نومبر 1960ء کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ ورثہ کو اُن کا جسدِ خاکی دیکھنا تک نصیب نہیں ہوا۔

پاکستانی سیاست کی اس خونچکاں داستاں لکھنے کے لیے ایک کتاب نہیں، ایک دفترِ بے کراں چائیے۔ بات قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری سے شرو ع ہوئی تھی مگر بازاری زبان میں

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا بات پہنچی تیری جوانی تک

جی ہاں وطنِ عزیز کی بدقسمتی محض جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا پر ختم نہیں ہوئی بلکہ آزادی کے 23 سال بعد بالغ رائے دہی کی بنیاد پر قائم ہونے والی پہلی قومی اسمبلی بننے سے پہلے ہی خلیجِ بنگال میں ڈوب گئی۔ باقی ماندہ پاکستان میں پہلے منتخب وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت کو یہ کریڈٹ تو جائے گا کہ انہوں نے آدھے پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دیا۔ مگر ابھی اس 1973ء کے آئین کی سیاہی بھی نہیں سوکھی تھی کہ صرف 9 ماہ بعد بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد کی منتخب اسمبلیاں توڑ دی گئیں۔

مزید پڑھیے: ابھی تحریکِ انصاف کی حکومت کو 4 جمعے نہیں گزرے کہ۔۔۔

اگلے مرحلے میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر غداری کا الزام لگا کر ساری قیادت کو نذرِ زنداں کردیا گیا۔ میں اِس وقت مشہورِ زمانہ حیدرآباد سازش کیس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا جس کے مرکزی ملزم قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خان عبدالولی خان تھے۔ ولی خان سمیت 52 ملزمان کو جن میں اکثریت قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان اور سینیٹرز کی تھی، ملک توڑنے کی سازش کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اخباری فائلیں کھنگالنے کا وقت نہیں نہ ہی Google پر یہ سب دستیاب ہوگا مگر یادداشت کی بنیاد پر صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے کہہ سکتا ہوں کہ قائد حزبِ اختلاف ولی خاں سمیت بلوچ اور پشتون اراکینِ اسمبلی کو گرفتار کرتے وقت اُس وقت کے اسپیکرز سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔

بھٹو صاحب جیسے statesman اور سحر انگیز سیاستداں کا یہ جمہوری دور آئینی اصولوں کی پاسداری کے اعتبار سے کوئی بہت زیادہ تابناک دور نہیں تھا۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق جیسے آمر سے کیا توقع رکھی جاسکتی تھی کہ جس کے 10 سالہ دورِ سیاہ نے پاکستان میں جمہوریت کو ہی دفن کردیا۔

جب بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا دی گئی، جب اُن کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو مسلسل نظر بندی کی سزا بھگت رہی تھیں اور جب ہزاروں سیاسی کارکنوں کو کوڑوں سمیت بہیمانہ تشدد و سزاؤں کا نشانہ بنایا جارہا تھا، عین اسی وقت شریف خاندان کی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں سیاست میں انٹری ہوئی۔

شریف خاندان نے محاورے کی زبان میں راتوں رات اقتدار کی بلندیاں پھلانگ لیں۔ ایک بھائی وزیرِ اعلیٰ بنا تو دوسرا وزیرِاعظم۔ 90ء کی یہ دہائی بھی ’sham democracy‘ ہی کہلائے گی کہ دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے دور میں مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کو جھوٹے اور جعلی مقدمات میں برسوں قید میں رکھا۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں نواز شریف اور شہباز شریف کے والد بزرگوار میاں شریف کو بیماری اور بزرگی کے باوجود جیل میں ڈالا گیا تو شریفوں کے دور میں بے نظیر بھٹو کے شوہر نے طویل اسیری کاٹی۔

بھٹو صاحب جیسے statesman اور سحر انگیز سیاستداں کا یہ جمہوری دور آئینی اصولوں کی پاسداری کے اعتبار سے کوئی بہت زیادہ تابناک دور نہیں تھا۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق جیسے آمر سے کیا توقع رکھی جاسکتی تھی کہ جس کے 10 سالہ دورِ سیاہ نے پاکستان میں جمہوریت کو ہی دفن کردیا۔

اکتوبر 1999ء میں جب جنرل پرویز مشرف کا مارشل لا آیا تو اس کے پہلے قیدی وزیرِاعظم نواز شریف اور وزیرِاعلیٰ شہباز شریف بنے۔مشرف دور پیپلز پارٹی کے لیے آسودہ حالی کے ماہ و سال تھے۔ 2008ء سے 2013ء اور پھر 2013ء سے 2018ء اس اعتبار سے اچھے دنوں میں گنے جائیں گے کہ دونوں جماعتوں نے اپنی اپنی باری کے دوران ایک دوسرے کو برداشت کیا۔

25 جولائی 2018ء کے نتیجے میں وزیرِاعظم بننے والے عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران ہی بتادیا تھا کہ دونوں بھائیوں کے مقدر میں اڈیالہ جیل لکھی جاچکی ہے۔ نواز شریف تو خیر سے عدالتی حکم پر الیکشن سے پہلے ہی کرپشن کے الزام میں نااہل ہوتے ہوئے اڈیالہ جیل تک پہنچ گئے تھے، لیکن ممکنہ طور پر کمزور کیس کے سبب وہ اِس وقت اسلام آباد عدالت سے رہائی حاصل کرنے کے بعد کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ اس خاندان کو سکھ کا کچھ لمحہ میسر آگیا ہے، لیکن شہباز شریف کی گرفتاری ایک surprise تھی جس نے سب کو حیران کردیا ہے۔

مزید پڑھیے: خان صاحب 90 کیا 900 دن لے لیں مگر ایسا تو نہ کریں

کہا جاتا ہے کہ وہ بلوائے تو کسی اور کیس کے لیے تھے، مگر گرفتار انہیں کسی اور کیس میں کیا گیا ہے۔ یہ ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ شہباز شریف کو جس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے اس سے متعلق نیب کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں یا نہیں؟ اگر کیس مضبوط ہوا تو یقیناً شہباز شریف کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا، لیکن اگر نواز شریف کے کیس کی طرح نیب عدالت کو مطمئن نہیں کرسکی اور ان کی بھی ضمانت پر رہائی ہوگئی تو صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔

پھر گزشتہ روز وزیرِاعظم عمران خان نے یہ بھی تو کہا ہے کہ اگر نیب اُن کے ماتحت کام کررہی ہوتی تو اب تک 50 کرپٹ لوگوں کو جیل بھیج چکے ہوتے۔ لہٰذا دیکھتے ہیں کہ قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد :

لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی