ہمیں اپنی صحت سے متعلق پریشانی اس وقت لاحق ہونے لگتی ہے جب دوست احباب بڑھتی توند یا پھولتے چہرے کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور 'آزمودہ' نسخے بتاتے ہیں۔

اشارہ ملنے کی دیر ہوتی ہے کہ ڈائٹ کے نام پر سب سے پہلے ناشتے کو خیرباد کہہ دیا جاتا ہے، بھوک لگنے پر سوڈا، کینڈی یا کافی نوش کی جاتی ہے، ایسی تمام مضر صحت عادتیوں کی فہرست ملاخط فرمائیں، جنہیں اگر اپ نے نہیں چھوڑا تو فوراََ چھوڑ دیں۔

فائبر اور شوگر

خوراک میں فائبر اور نمک کم ہو تو یہ جسم میں موٹاپے کا باعث بنتا ہے لیکن اگر آپ دن میں 5 سے 6 مرتبہ محدود مگر زیادہ فائبر والے اجزا کی خوارک اپنے استعمال میں رکھیں تو کم کھایا جائے گا اور کیلوریز بھی زیادہ جلیں گی۔

زیادہ فائبر والی خوراک میں پھل، سبزیاں، اخروٹ، گندم وغیرہ شامل ہیں۔

بھوک سے چھٹکارہ

آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو لوگ ڈائٹ کے نام پر گھنٹوں بھوک برداشت کرتے وہ زیادہ کھاتے ہیں، دراصل 8 سے 10 گھنٹے تک کھانہ ترک کرنے کی عادات مناسب نہیں کیونکہ جسم کو خوراک درکار ہوتی ہے جو آپ ڈائٹ کے نام پر قربان کردیتے ہیں، خیال رہے زیادہ کھانا کھانے سے جسم توانائی حاصل نہیں کرپاتا۔

کیا کھائیں؟

ڈائٹ کرنے والے بے شمار لوگ یہ جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ وہ روزانہ کتنی کیلوریز اور فیٹس خوراک کا حصہ ہونا چاہیے، ایسے لوگوں کی زیادہ تر تعداد ریسٹورانٹس میں نظر آتی ہے، جہاں وہ بہت زیادہ چنک فوڈ کا استعمال کرتے ہیں، واضح رہے کہ جسم میں حد سے زیادہ کیلوریز موٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔

چینی یا سفید شکر، سفید آٹا

چینی یا سفید شکر کا زیادہ استعمال بلڈ میں شوگر کا باعث بنتا ہے اور ہمارا نظام ہاضمہ تبدیل ہوجاتا ہے، اگر آپ کی خوراک میں سفید آٹا اور چینی کی مصنوعات زیادہ ہیں تو اسے فوری ترک کردیں کیونکہ یہ تمام اجزا ہضم ہونے میں بہت وقت لیتے ہیں اور وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

بیسار خوری

اگر آپ کا خیال ہے کہ ہمارا پیٹ ہمیں بتاتا ہے کہ بس اس سے زیادہ نہیں کھانا، تو آپ غلط فہمی کا شکار ہیں، دراصل جب ہم کھانا کھانا شروع کرتے ہیں تو 20 منٹ بعد ہی ہمارا دماغ ہمارے جسم کو سگنل دیتا ہے کہ بہت کھالیا، اس ضمن میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ پرسکون ماحول میں خوراک لینے سے بسیار خوری سے بچا جاسکتا ہے۔

ورزش سے روپوشی

چہل قدمی اور ورزش سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور جو کچھ ہم کھاتے ہیں اسے ہضم کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں چہل قدمی سے تھکن غالب آجائے گی تو یہ خیال محض سستی کی علامت ہے۔

پانی کا مطلب پانی

پانی دماغ اور جسم کو فعال رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جسم کو چربی ذائل کرنے کے لیے روزانہ 8 گلاس پانی درکار ہوتا ہے، پانی سے مراد سوڈا یا کافی نہیں بلکہ پانی ہے۔