اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے دوران عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ منرل واٹر پینے کے بجائے نلکوں کا پانی پیئیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے پینے کا پانی مہنگے داموں فروخت کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کی، اس دوران منرل واٹر کمپنی نیسلے کی جانب سے وکیل اعتزاز احسن پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیسلے سمیت کوئی کمپنی پیسے نہیں دے رہی، اربوں گیلن پانی لیا گیا اور لاکھوں روپے بھی نہیں دیے گئے جبکہ کمپنیوں کی اکثریت غیر معیاری پانی فروخت کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: میں نے تو نیسلے کا پانی پینا ہی چھوڑ دیا، چیف جسٹس

اس پر اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ زیر زمین پانی نکالنے، اسے صاف کرنے اور اس کی مارکیٹنگ کرنے پر اخراجات آتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسا کرتے ہیں آپ کی ٹربائنیں بند کرا دیتے ہیں اور کمپنی سے کہتے ہیں کہ نلکے کا پانی دے۔

دوران سماعت وکیل اعتزاز احسن نے رپورٹ پڑھ کر سنائی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ انڈس ساگا تو نہیں پڑھ رہے، آپ نے تو صرف بتایا تھا کہ کتنے پیسے ادا کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ منرل واٹر کمپنیوں نے زیر زمین پانی سُکھا دیا ہے، نلکوں میں پانی آنا بند ہوگیا ہے، بند کریں اس صنعت کو جو ملک کو بنجر بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں میں نخرے آگئے ہیں، آدھی بوتل پانی پی کر چھوڑ دیتے ہیں، میں عوام سے کہتا ہوں کہ نلکوں کا پانی پیئیں، دیہات میں آج بھی لوگ سادہ پانی پیتے ہیں یہ نخرے شہریوں کے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کمپنیاں کام کرنا چاہتی ہیں تو پانی کے لیے ایک روپیہ فی لیٹر حکومت کو دیں، اس پر وکیل نیسلے اعتراز احسن نے کہا کہ ہم 50 پیسے فی لیٹر دے سکتے ہیں، تاہم قرشی کمپنی کے وکیل نے کہا کہ عدالت جو بھی قیمت مقرر کرے گی ہم دینے کو تیار ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ منرل واٹر کمپنیوں نے آج تک فراڈ کیا ہے، یہ ایک روپے کا پانی 52 روپے میں فروخت کرتے ہیں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سیلز ٹیکس کے معاملے میں ان کمپنیوں سے ملا ہوا ہے، کوئی بڑا وکیل اس معاملے میں عدالتی معاون بننے کو تیار نہیں ہے۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پانی کی خالی بوتل کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی بھی پھیل رہی ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا سروس اسٹیشنوں پر میٹھے پانی سے گاڑیاں دھوئی جارہی ہیں۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ منرل واٹر کمپنیاں اربوں روپے کما رہی ہیں لیکن اسے کمیونٹی کو واپس کیوں نہیں کرتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کمپنیوں نے لاہور اور شیخوپورہ کو سکھا دیا ہے اور لاہور میں 400 فٹ پر پانی پہنچ گیا ہے، لہٰذا میں عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بوتلوں کا پانی پینا بند کردیں۔

وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو منرل واٹر اور مشروبات کمپنیوں نے پانی کی قیمت ادا کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ جو قیمت وصول کی جائے گی اسے ملک میں پانی کے ذخائر کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے اور یہ حکم نامہ پورے ملک پر نافذ العمل ہوگا، اس حوالے سے اگر قانون سازی بھی کرنی پڑتی ہے تو حکومت قانون سازی کرے۔

دوران سماعت وکیل اعتراز احسن نے کہا کہ میں پگھل گیا ہوں اور ہم قیمت دینے پر تیار ہیں، اس پر چیف جسٹس نے مکالمہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگون کے دلوں میں پاکستان کے لیے محبت پیدا کردی ہے، پانی کا مسئلہ بہت سنگین ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: منرل واٹر کمپنی نیسلے کو 5 سال کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

عدالت عظمیٰ میں موجود ایف بی آر کے وکیل اقبال کلانوری نے بتایا کہ زیر زمین پانی پر پیسوں کی ادائیگی سے متعلق کوئی قانون نہیں، جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر قانون نہیں ہے تو میرا قصور بھی نہیں ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چاروں صوبے پانی کی قیمتوں کے حوالے سے پالیسی بنائیں اور ایک ہفتےمیں رپورٹ پیش کریں۔

عدالت نے کہا کہ پانی کے حوالے سے جمع شدہ رقم زیر زمین پانی کی بہتری کے لیے استعمال کی جائے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ اعتزاز احسن اور تمام وکلا کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ملک کے لیے اتنا بڑا کام کردیا ہے، اعتزاز صاحب لوگ آپ کی عزت کرتے ہیں اور آپ کو سنتے ہیں، آپ لوگوں کے دلوں میں ملک کی محبت ڈالیں، یہ ملک ہماری ماں ہے اور ہمیں اس کے لیے کام کرنا ہے۔