قرضوں کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لینا پڑیں گے، وزیراعظم عمران خان

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2018

ای میل

وزیراعظم نے کہا کہ ذاتی عناد پر ای سی ایل میں شامل کیے گئے نام نکال دیے جائیں گے۔۔۔
فوٹو :ڈان نیوز
وزیراعظم نے کہا کہ ذاتی عناد پر ای سی ایل میں شامل کیے گئے نام نکال دیے جائیں گے۔۔۔ فوٹو :ڈان نیوز

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پچھلے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لینا پڑیں گے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام سے ملک کی معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ ون ونڈو آپریشن کے تحت چلایا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران ملکی قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب روپے ہوگیا ہے، ہمیں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ اتنا پیسہ کن منصوبوں پر خرچ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی آئی ایم ایف سے سب سے بڑا قرض پیکیج حاصل کرنے کی کوشش

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ابھی آئی ہے اور ہم پر دباؤ ہے کہ پچھلی حکومتوں نے جو قرض لیے تھے ان کی ادائیگی کریں، اس لیے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ قرضوں کی مد میں اتنی خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی۔

وزیراعظم عمران خان نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں گزشتہ دس سال کے دوران لیے قرضوں کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کے پاس جانا تباہ کن ہوگا

اجلاس میں فیصلہ کیا کہ کسی بھی پاکستانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور نکالنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ ہی کرے گی، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ذاتی عناد پرای سی ایل میں شامل ناموں کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ذاتی عناد پر ای سی ایل میں شامل کیے گئے نام نکالے جائیں گے۔