اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ ملک میں نئی حکومت آنے کے بعد پاکستان کے امریکا کے ساتھ روابط میں اضافہ ہوا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی، نظر ثانی سے متعلق وزیراعظم کے بیان کو درست رپورٹ نہیں کیا گیا۔

سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ابھی تفصیلات سامنے نہیں آئی۔

مزید پڑھیں: ’مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے‘

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) سربراہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات کی کوشش نہیں کی

ترجمان نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر پاک-بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے پاکستان نے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی درخواست کی تھی تاہم بھارت حامی بھرنے کے باوجود پیچھے ہٹ گیا۔

مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کو عوام نے مسترد کر دیا

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا ہے، نام نہاد بلدیاتی انتخابات کے موقع پر حریت رہنماؤں کی نظر بندی کی مذمت کرتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کو عوام نے مسترد کر دیا اور پولنگ والے دن اسٹیشن پر ٹرن آؤٹ نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو حریت رہنماؤں کی صحت اور تہاڑ جیل سمیت نام نہاد تفتیشی مراکز میں حراست پر تشویش ہے، لگتا ہے کہ کشمیر میں حالات بھارت کے کنٹرول سے باہر ہو گئے ہیں اور بھارت اس طرح کے ڈرامے کر کے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے دورہ پاکستان میں افغان مفاہمتی عمل کے حوالے سے بات چیت کی اور انہیں بتایا گیا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے باہمی طور پر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے اور افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا امریکا، افغان حکومت اور باقی اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ ہم افغانستان کی قیادت میں افغان مفاہمتی عمل کے حامی ہیں، زلمے خلیل زاد کا آنا اس بات کی عکاسی ہے کہ وہ بھی آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

تاہم اس موقع پر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شکیل آفریدی کے معاملے پر ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

خیال رہے کہ دورہ امریکا کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نائن الیون حملے کے ماسٹرمائنڈ اسامہ بن لادن تک رسائی میں مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی قید سے متعلق کہا تھا کہ پاکستان پُرامید ہے کہ امریکا اسی طریقے سے ہمارے قانونی عمل کا احترام کرے گا جیسے ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔

ہم کسی طرح کی ہتھیاروں کی دوڑ میں نہیں

بریفنگ کے دوران سعودی عرب میں 15سو پاکستانیوں کی حراست کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اس حوالے سے ریاض سے رابطہ میں ہیں جبکہ ملک بدر کیے گئے افراد کے حوالے سے قونصلر رسائی دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’شکیل آفریدی کیس میں امریکا کو ہمارے قانون کا احترام کرنا چاہیے‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی قونصلیٹ سفری دستاویز جاری کر رہا ہے اور زمیر میں کمپنی کے مالک نے خود قونصلیت سے رابطہ کیا ہے۔

بھارت اور روس کے دفاعی معاہدہ پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم کسی طرح کی ہتھیاروں کی دوڑ میں نہیں لیکن اگر ملک کو کوئی خطرہ ہو تو ہم جواب دینے کو تیار ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے کام کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے، پاکستان نے 141 بین الاقوامی این جی اووز کے معاملات دیکھے 74 کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔