صاف پانی کیس: شہباز شریف کے داماد کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2018

ای میل

عدالت نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا— فائل فوٹو
عدالت نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا— فائل فوٹو

لاہور: احتساب عدالت نے صاف پانی کیس میں نیب کی درخواست پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے داماد علی عمران یوسف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔

احتساب عدالت کے جج محمد اعظم نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے جائیداد ضبط کرنے درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

عدالت کے کہنے پر آج دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ نے مزید دلائل دیے اور بتایا کہ علی عمران کی اربوں روپے مالیت کی جائیداد پاکستان میں ہے اور علی سینٹر، علی ٹاؤن میں کروڑوں روپے مالیت کے دفاتر اور اپارٹمنٹ ہیں۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف کے داماد کی جائیداد ضبط سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ

نیب پروسیکیوٹر نے بتایا کہ علی اینڈ فاطمہ ڈویلپر کے نام پر گلبرگ میں اربوں روپے مالیت کا پلازہ ہے،غوث الاعظم ڈیولپرز کے نام پر بھی کروڑوں روپے کی جائیداد علی عمران کے نام ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گلبرگ 3 میں 99/100 A بلاک میں کروڑوں روپے مالیت کا پلاٹ ہے جبکہ مدینہ فیڈز مل بھی علی عمران یوسف کی ملکیت میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علی پروسیڈ فوڈزپرائیویٹ لمیٹڈ بھی وزیر پنجاب کے داماد کی ملکیت میں ہے، عمران علی یوسف پر پنجاب پاور ڈیولپمنٹ کمپنی کے سی ایف او نوید اکرام سے 13 کروڑ رشوت لینے کا الزام ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ علی عمران یوسف کو تحقیقات کے لیے نیب طلب کیا گیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے جبکہ شہباز شریف کے داماد کے وارنِٹ گرفتاری جاری ہوئے لیکن وہ ملک سے فرار ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کے داماد مسلسل تیسری مرتبہ نیب تحقیقات میں پیش نہیں ہوئے

بعد ازاں عدالت نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے شہباز شریف کے داماد علی عمران کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ عمران علی یوسف پر الزام ہے کہ انہوں نے پی پی ڈی سی کے اکاؤنٹ میں وصول ہونے والے 12 کروڑ روپے اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے، اس کے علاوہ انہوں نے اکرام نوید کو پی پی ڈی کا سی ای او تعینات کیا، جس نے مبینہ طور پر کرپشن کی اور اب وہ نیب کی حراست میں ہیں۔

اسی طرح شہباز شریف کے داماد پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے لاہور کے علاقے گلبرگ میں اپنا ہی پلازے کے ایک فلور کو 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کرائے پر دیا تھا۔