اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کیس میں ڈان نیوز ٹی وی اور جیونیوز سمیت دیگر نجی ٹی وی چینلز کی جگہ تبدیل کرنے پر پاکستان الیکڑونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی سرزنش کردی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جو مخصوص ٹی وی چینلز ایجنڈے پر عمل نہ کریں انہیں ڈنڈا مارو یہ کیا بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا پیمرا اور پریس کونسل کو ختم کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ جو ٹی وی چینلز قواعد و ضوابط پر عمل پیرا نہیں ہیں انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جسٹس قاضی فائز نے پیمرا ڈائریکٹر جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘کیا آپ صرف وہ چینلز چاہتے ہیں جو آپ کو پسند ہیں؟’

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ٹی وی چینلز پر عائد پابندیوں سے متعلق مزید وضاحت طلب کرلی۔

واضح رہے کہ پیمرا کے ترجمان نے عدالت کو بتایا تھا کہ فیض آباد دھرنے کے موقع پر اتھارٹی نے متعدد نیوز چینل کے نمبر کیبل نیٹ ورک پر پیچھے کردیے تھے۔

مزید پڑھیں: فیض آباد دھرنا کیس: راجہ ظفر الحق کمیٹی رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت برہم

دوران سماعت بینچ نے پیمرا کو حکم دیا کہ وہ نیوز چینلز پر عائد پابندیوں کی مکمل تفصیلات جمع کرائے۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو بھی نوٹس جاری کیا جس میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی رجسٹریشن سے متعلق جواب جمع کرایا جائے۔

واضح رہے کہ سیاسی جماعت ٹی ایل پی نے فیض آباد میں دھرنا دیا تھا۔

مزید پڑھیں: فیض آباد دھرنا کیس: عدالت کا خادم حسین رضوی کو گرفتار کرنے کا حکم

عدالت نے ای سی پی کو حکم دیا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے پیش کردہ رجسٹریشن کی درخواست اگلی سماعت میں جمع کرائی جائے۔

کیس کی سماعت نومبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔