حکومت غیر پیشہ ور سفارت کاروں کی تعیناتی پر نظرثانی کرسکتی ہے، عدالت

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2018

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے علی جہانگیر صدیقی کی امریکا میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے تعیناتی کے خلاف دائر درخواست نمٹا دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ یہ درخواست سابقہ حکومت کی جانب سے کی گئی اس طرح کی تعیناتیوں کے خلاف دائر کی گئی تھی تاہم اب نئی حکومت غیر پیشہ ور سفارت کاروں کی تعیناتی پر نظر ثانی کرسکتی ہے۔

درخوست کی پیروی ایڈووکیٹ حسن مرتضیٰ مان اور بیرسٹر سَجیل شہریار کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: علی جہانگیر صدیقی نے امریکا میں پاکستانی سفیر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

درخواست گزاروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی تھی کہ علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی قانون اور آئین سے ماورا ہے، اس لیے ان کی تقرری کو معطل کرنے اور حکومت سے اس حکم کو واپس لینے کی ہدایت کی جائے۔

امریکا میں پاکستانی سفیر کی قابلیت کے حوالے سے درخواست گزاروں نے موقف اپنایا تھا کہ 'امریکا میں پاکستان کے سفیر کو قوم کے بہترین مفاد میں تجربہ کار، کامیابیوں اور سفارت کاری کے میدان میں نمایاں ہونا چاہیے’۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ متعلقہ حکام کو مناسب امیدوار کی تعیناتی کے لیے احکامات جاری کرے۔

مزید پڑھیں: علی صدیقی کی امریکا میں بطور سفیر تعیناتی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے رواں برس 8 مارچ کو معروف کاروباری شخصیت علی جہانگیر صدیقی کو امریکا میں سفیر تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔

بعد ازاں ایڈووکیٹ شہزاد صدیق علوی نے اپنے وکیل بیرسٹر سجیل شہریار اور چوہدری حسن مرتضیٰ مان کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

پٹیشن میں سیکریٹریز کابینہ ڈویژن، خارجہ امور اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو فریق بنایا گیا تھا۔

علی جہانگیر صدیقی نے 30 مئی 2018 کو چوہدری اعزاز احمد کی جگہ امریکا میں پاکستانی سفیر کا عہدہ سنبھالا تھا۔