’افغانستان میں امن پاکستان اور امریکا کے درمیان تعاون کی وجہ‘

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2018

ای میل

شاہ محمود قریشی نے دورہ امریکا میں مائیک پومپیو سے ملاقات کی تھی — فائل فوٹو
شاہ محمود قریشی نے دورہ امریکا میں مائیک پومپیو سے ملاقات کی تھی — فائل فوٹو

اسلام آباد: ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان اور امریکا کے درمیان تعاون کی وجہ ہے لیکن واشنگٹن کی جانب سے جنگ زدہ ملک کے تنازع کو حل کرنے میں واضح موقف نہ ہونے پر تحفظات ہیں۔

ماہرین کی جانب سے یہ باتیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے واشنگٹن کے دورے کے بعد پاک ۔ امریکا تعلقات کے حوالے سے سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس میں کی گئیں۔

چیئرمین خارجہ امور کمیٹی سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاک-امریکا تعلقات میں ’امید کی کرن‘ اور دونوں ممالک میں مستقبل کے تعلقات کی ایک ’محتاط امید‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکا، افغان تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: ’پاک امریکا تعلقات کو ڈالروں میں نہیں تولا جاسکتا‘

تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکا، افغانستان اور طالبان تک رسائی کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔

اس موقع پر سابق سیکریٹری خارجہ اور سابق سفیر جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے امریکا کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا بہتر ہوگا اور اسے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کے مواقع ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 'میرا ماننا ہے کہ امریکا کو دیر سے اس بات کا احساس ہوا کہ پاکستان کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کی پرانی حکمت عملی کام نہیں کر رہی۔'

انہوں نے پاکستان اور امریکا کے رہنماؤں کے درمیان حالیہ ملاقاتوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیزیں مثبت طور پر آگے بڑھ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے پاک-امریکا تعلقات کی بحالی پر اتفاق کیا، وزیرخارجہ

واشنگٹن میں امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے نائب صدر معید یوسف کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صورتحال پاک-امریکا تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اس ضمن میں انہوں نے مشترکہ بات چیت اور نقطہ نظر کو فروغ دینے اور افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو استعمال کرنے کی تجویز دی۔

معید یوسف نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ امریکا میں جانے جانے والے مستقل وزیر خارجہ کی موجودگی کو واشنگٹن مثبت طور پر دیکھا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطے سے بھی تعلقات میں بہتری مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس 2 آپشنز تھے اور یہ یقین تھا کہ مستقبل میں خطے کو 2 بلاکس میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، جہاں ایک طرف امریکا اور بھارت جبکہ دوسری طرف پاکستان اور چین ہوں گے اور اسی کے مطابق ہمیں واشنگٹن اور بیجنگ کے ساتھ برابری کی بنیاد پر روابط رکھنے ہوں گے۔


یہ خبر 12 اکتوبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔