وینزویلا کے صدر کا ایک مرتبہ پر امریکا پر قتل کرنے کی کوششوں کا الزام

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2018

ای میل

وینزویلا کے صدر نکولس مدورو — فوٹو : اے ایف پی
وینزویلا کے صدر نکولس مدورو — فوٹو : اے ایف پی

وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ انہیں قتل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نکولس مدورو نے سرکاری ٹی وی پر ایک تقریر میں کہا کہ امریکا نے کولمبیا کی حکومت کو میرے قتل کی سازش ترتیب دینے کا کہا تھا، جو اگست میں ناکام ہوگئی تھی۔

انہوں نے مستقبل میں ہونے والے کسی بھی قاتلانہ حملے سے متعلق کہا کہ ’میں پوری دنیا کو بتارہا ہوں کہ مجھ پر قاتلانہ حملے کا حکم وائٹ ہاؤس کی جانب سے کولمبیا کے دارالحکومت بوگوتا میں حکومت کو دیا گیا تھا، ٹرمپ انتظامیہ مجھے قتل کرنا چاہتی ہے‘۔

یاد رہے کہ رواں برس اگست میں وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں فوجی پریڈ کے دوران صدر نکولس مدورو مبینہ طور پر ڈرون حملے میں محفوظ رہے تھے جبکہ نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔

مزید پڑھیں : وینزویلا کے صدر ’قاتلانہ حملے‘ میں محفوظ

وینزویلا کے صدر بارہا واشنگٹن اور بوگوتا خصوصاً کولمبیا کے سابق صدر جوآّن مینول سانتوس پر اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔

مزید برآں وینزویلا پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ مستقبل میں ریاستی حدود میں کسی بھی حملے کا ذمہ دار کولمبیا ہوگا۔

اسپٹنک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب کولمبیا کی وزارت خارجہ نے نکولس مدورو پر حملے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کیا۔

ان الزامات کا سلسلہ امریکا اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے سامنے آیا۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان لفظی جنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔

نکولس مدورو نے امریکا کو وینزویلا کے معاملات میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک متنازع تجویز دی کہ ایک فوجی بغاوت وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وینزویلا:صدر کےحامیوں کا پارلیمنٹ پرحملہ،متعدد اپوزیشن ارکان زخمی

علاوہ ازیں واشنگٹن نے وینزویلا پر یک طرفہ پابندیاں عائد کیں جس میں رواں برس ستمبر میں حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے نکولس مدورو کی اہلیہ سمیت دیگر اتحادیوں پر پابندی شامل تھی۔

کراکس 2014 سے سیاسی شخصیات اور معیشیت پر امریکی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے جو امریکا کی قومی سلامتی کو پیش خطرات اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عائد کی گئیں تھیں۔

علاوہ ازیں بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک اور ادویات کی کمی کے باعث وینزویلا کے 23 لاکھ رہائشی ملک چھوڑ کر جنوبی امریکا کے مختلف ممالک کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔