اورنگزیب کو سرمد کاشانی پر غصہ کیوں تھا؟

31 اکتوبر 2018

ای میل

مرزا غازی بیگ ارغونوں، مغلوں اور ترخانوں کے اُس سلسلے کا آخری حاکم تھا جس کی بنیاد ٹھٹہ میں مرزا شاہ بیگ ارغون نے رکھی تھی۔ مرزا غازی بیگ ایک بہتر حکمران تھا مگر اس مناسب طبیعت رکھنے والے وجود کا اختتام 1612ء میں خوراک کے اُس نوالے سے ہوا جو اُس کے پسندیدہ باورچی عبداللطیف نے بنایا تھا۔

کچھ حاسدوں کو مسئلے کا حل یہ سمجھ آیا تھا کہ زہر دے کر مرزا غازی کو اس بے بقا جہاں سے آزاد کر دینا چاہیے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جس کے بعد مرکز میں بیٹھے ہوئے شہنشاہ جہانگیر نے ٹھٹہ میں اپنے گورنر مقرر کرنا شروع کیے۔

یہ وہ دن تھے جب ٹھٹہ بیوپار کا مرکز تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد تحریر کرتے ہیں: ’اُس زمانے میں ایرانی سیاح عموماً سندھ سے ہو کر ہندوستان آتے تھے۔ سندھ کے شہروں میں ٹھٹھہ ایک مشہور شہر تھا جس کو اب نئے جغرافیے میں گمنامی کا خانہ نصیب ہوا ہے۔‘

بیوپار کے لیے ہندوستان آنے والے اکثر بیوپاری پہلے ٹھٹہ کے بازاروں میں آتے۔ اگر سارا مال بک جاتا تو وہیں سے واپسی ہوجاتی اور اگر ساتھ لایا ہوا مال بچ جاتا تو پھر ہندوستان کی راہ لیتے۔

اس زمانے میں ایران اور ہندوستان میں صوفیا کا بڑا غلبہ تھا۔ آرمینیا کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہونے والے اس تاجر نے پہلے ایران کے صوبے اصفہان کے علاقے کاشان کو اپنا گھر بنایا اور اپنے وہاں گزارے گئے دنوں میں ہندوستان کے صوفیا اور خانقاہوں کے متعلق معلومات اکٹھی کی۔ ایک دفعہ اپنے آبائی علاقے کے راستوں پر اس کی ملاقات ایک مذہبی پیشوا سے ہوئی۔ اس نے تاجر کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا: ’تمہارے ماتھے پر کچھ تحریر ہے۔ دو مخمور آنکھیں، اُن پر سب قربان اور تم جذبوں کی تجارت کرو گے۔‘

بہرحال بات آئی گئی ہوگئی۔ فارسی اور عبرانی زبانوں پر عبور حاصل کرنے اور مذاہبِ عالم کے مطالعے کے بعد بالآخر سرمد نامی اس تاجر نے ملّا صدر الدین محمد شیرازی (ملّا صدرہ) اور مرزا عبدالقاسم فرونسکی کی رہنمائی میں دینِ اسلام کو اپنا لیا۔ اس کے بعد سرمد نے تجارت کے لیے چیزیں اکھٹی کیں اور ٹھٹہ کے لیے نکل پڑا۔ کچھ دنوں کے بعد سمندری جہاز ٹھٹہ کی بندرگاہ آ پہنچا۔ یہاں پر اس نے ایک سرائے میں رہائش کا کمرہ لیا، سامان رکھا اور مارکیٹ دیکھنے کے لیے ٹھٹہ کے بازاروں میں نکل پڑا۔

آزاد صاحب کیا خوب لکھتے ہیں کہ ’یہی ٹھٹھہ وہ سینائے مقدس تھا جو سرمد کے لیے تجلی گاہ ایمن بنا اور لیلائے حُسن نے اول اول اپنے چہرے سے نقاب الٹا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ایک ہندو لڑکا تھا جس کے چشمِ کافر نے یہ افسوں طرازی کی۔‘

عبدالقادر حسین تحریر کرتے ہیں: ’ایران کا ایک خوشحال تاجر اس شہر میں پہنچا تو وہ یہاں ایک چہرے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا اور یکسر بدل گیا۔ بے خودی کی ایسی جذب و مستی کی کیفیت طاری ہوئی کہ سرمد دنیا جہاں کو بھول گیا، سوائے اپنے محبوب کے۔ اُس لڑکے کا نام ابھے چند تھا جو خوش رو اور خوش گلو بھی تھا۔ وہ جب کلام پڑھتا تو یہ شاعر بے خود ہوجاتا۔‘

انسان کا دل جب تک چوٹ نہ کھائے دنیا کی لذتوں کو نہیں چھوڑتا اور یہ چوٹ صرف عشق ہی کے ہاتھوں لگ سکتی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد تحریر کرتے ہیں کہ ’عشق کی شورش انگیزیاں ہر جگہ یکساں ہیں۔ ہر عاشق گو قیس نہ ہو مگر مجنوں ضرور ہوتا ہے اور جب عشق آتا ہے تو عقل و حواس کو کہتا ہے کہ میرے لیے جگہ خالی کردو۔ سرمد پر بھی یہی کیفیت طاری ہوئی اور جذب و جنوں اس طرح چھایا کہ ہوش و حواس کے ساتھ تمام مال و متاعِ تجارت بھی غارت کردیا۔ دنیاوی تعلقات میں جسم پوشی کی بیڑی باقی رہ گئی تھی، بالآخر اس بوجھ سے بھی پاؤں ہلکا ہوگیا۔‘

پڑھیے: 'صوفی ازم' وہ نہیں جو ہم سمجھتے ہیں!

ٹھٹہ کی گلیاں سرمد کے لیے وہ مقام ٹھہریں جہاں کایا پلٹ ہوتی ہے۔ کچھ روایتوں میں ہے کہ سرمد نے اسلام یہیں پر قبول کیا اور ’سعید‘ کا نام بھی یہیں ملا۔ ٹھٹہ کے بعد سرمد نے لاہور کی راہ لی۔ سرمد نے لاہور میں کتنا عرصہ گزارا، اس حوالے سے کوئی حتمی رائے موجود نہیں مگر مؤرخین اس دور کو 11 سے 13 سالوں پر محیط قرار دیتے ہیں۔ لاہور میں ہی اس نے توریت کا ترجمہ فارسی میں کیا۔ اسے عربی، فارسی اور دوسری زبانوں میں مہارت حاصل تھی۔ سرمد نے ایک اندازے کے مطابق جو 334 رباعیاں تخلیق کیں وہ یہیں لاہور میں ہی تخلیق ہوئیں۔ اس حوالے سے ایک محقق لکھتے ہیں: ’آخرکار ابھے چند اپنے باپ کی قید سے آزاد ہوکر سرمد سے ملا۔ اس کے بعد 1634ء میں دونوں لاہور چلے گئے جہاں سے سرمد کی شہرت دُور دُور تک پھیلی۔ لاہور میں 12 برس گزارنے کے بعد اس نے حیدرآباد دکن کو اپنا مرکز بنایا۔‘

مگر ایک بے چینی اور جستجو تھی جو دل، دماغ اور رگوں میں دیوانگی کی طرح بہتی تھی۔ وہ کیا تھا جو لاہور میں اتنے برس گزارنے کے بعد بھی مل نہ سکا؟ کہتے ہیں کہ 12 برس کے بعد تو جوگی کو بھی جوگ مل جاتا ہے۔ 1656ء میں ہمیں سرمد گولکنڈہ (حیدرآباد دکن) میں نظر آتے ہیں جہاں بادشاہ عبداللہ قطب شاہ اور اس کے زیرک وزیر شیخ محمد خان اس کے آگے تعظیم سے جھکے جا رہے ہیں، عقیدت مندوں کا حلقہ ہر وقت اُس کے گرد جمع رہتا ہے اور جہل کے پردے چاک ہونے لگتے ہیں۔ مگر بے قراری سرمد کے تحت الشعور میں کہیں سے اٹھتی اور یہ ساری کیفیتیں دہلی کی گلیوں کی خاک سے اُگتی تھیں اور سرمد کو بلاتی تھیں۔ دہلی اس سفر کی آخری منزل تھی جس کی ابتدا 1590ء میں کاشان سے ہوئی تھی۔

اس آخری منزل کی سرگزشت تحریر کرنے سے پہلے اس زمانے کے شب و روز کے متعلق، ڈاکٹر مبارک علی تحریر کرتے ہیں: ’دارا شکوہ صوفی منش اور آزاد خیال انسان تھا، وہ شہزادے سے زیادہ عالم تھا۔ صوفی خیالات اور مسلک کے لحاظ سے وہ قادری سلسلے سے بیعت تھا۔ قادری سلسلے نے ہندوستان میں ہندو مسلم اشتراک پر زور دیا۔ ملّا شاہ قادر، جن سے دارا شکوہ بیعت تھا، کے آزادانہ خیالات کی بناء پر علماء نے ان کے قتل کا فتویٰ دے دیا تھا، لیکن دارا شکوہ کی وجہ سے وہ بچ گئے۔

دارا کو سرمد سے بھی بڑا لگاؤ تھا کیونکہ وہ بھی مذہبی تفرقات سے بلند ہوکر سوچتا تھا۔ اس زمانے میں وحدت الوجود کے خیالات تقویت پاچکے تھے اور دونوں طرف سے لوگ مشترکہ مذہبی بنیادوں کی تلاش میں تھے۔ دارا شکوہ، ملّا شاہ قادر، سرمد اور محسن فانی (’دبستان مذاہب‘ کے مصنف) وہ آزاد خیال علماء تھے، جنہوں نے برِصغیر میں مذہبی آزاد خیالی اور رواداری کی تحریک کو بلندی تک پہنچایا۔ دارا اس کے علاوہ ’سفینۃ الاولیا‘، ’سکینۃ الاولیاء‘، ’رسالہ حق نما‘، ’مکالمۂ بابا لال و شکوہ‘، ’مجمع البحرین‘ اور ’حسنات العارفین‘ نامی کتابوں کا مصنف بھی تھا۔

1656ء کا زمانہ ہے جب دہلی کی جامع مسجد بن کر مکمل ہوئی تھی۔ اسی برس سرمد ہمیں دہلی کی گلیوں میں ملتا ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ جب گولکنڈہ سے دہلی آیا تو شاہجہاں آباد میں ڈیرہ ڈالا۔ یہاں اس کا قیام قادری سلسلے کے صوفی خواجہ سید ابو القاسم سبزواری کے یہاں رہا، جہاں سرمد کی دوستی دارا شکوہ سے ہوئی اور یہی دوستی سرمد کے قتل کی بنیادی وجہ بنی۔

دارا شکوہ (دائیں) سرمد کاشانی کے ساتھ (بائیں) — پینٹنگ پبلک ڈومین۔
دارا شکوہ (دائیں) سرمد کاشانی کے ساتھ (بائیں) — پینٹنگ پبلک ڈومین۔

مولانا ابوالکلام آزاد سرمد پر اپنی تحریر کی ہوئی کتاب ’حیاتِ سرمد‘ میں لکھتے ہیں: ’دنیا میں ایسے ترازو بھی ہیں جن کے ایک پلے میں اگر دیوانگی رکھ دی جائے تو دوسرا پلہ تمام عالم کی ہوشیاری رکھ دینے سے بھی نہیں جُھک سکتا اور پھر ایسے خریدار بھی ہیں جن کو اگر ہوش و حواس کا تمام سرمایہ دے دینے سے ایک ذرہ جنون مل سکتا ہو تو، بازار یوسف کی طرح ہر طرف سے ہجوم کریں۔ بہرکیف خواہ کچھ ہو، عالمگیر کی ہوشیاری سے تو ہمیں دارا شکوہ کی دیوانگی اور دوستی پسند آتی ہے کہ وہاں تو تیغِ ہوشیاری کشتگانِ حسرت کے خون سے رنگین ہے اور یہاں خود اپنے جسم کے گردن کی رگوں سے خون کی نالیاں بہہ رہی ہیں۔ شاید دارا شکوہ بھی عالمگیر جیسے ہوشیاروں کی ہوشیاری سے تنگ آگیا تھا۔ اسی لیے اس نے سرمد جیسے مجانین کی صحبت کو ہوش والوں کی مجلس پر ترجیح دی۔

’غرض یہ کہ سرمد دارا شکوہ کی صحبت میں رہنے لگا اور اسے بھی سرمد سے کمال عقیدت تھی۔ اس زمانہ میں عشق کی شورش انگیزیاں کبھی کبھی اسے باہر نکلنے پر مجبور کرتیں لیکن چونکہ معلوم ہوچکا تھا کہ آخری امتحان گاہ یہی ہے اس لیے شاہجہان آباد سے نکل نہیں سکتا تھا۔ یہاں تک کہ شاہجہاں کی علالت اور دارا شکوہ کی نیابت نے عالمگیری ارادوں کے ظہور کا سامان کردیا اور عرصہ کی شورش و خونریزی کے بعد اورنگزیب عالمگیر تخت نشین حکومت ہوا۔

’یہ زمانہ دارا شکوہ کے ساتھیوں اور ہم نشینوں، خود دارا شکوہ کے لیے کم مصیبت انگیز نہ تھا۔ بہت سے لوگ تو دارا شکوہ کے ساتھ نکل گئے اور جو رہ گئے انہوں نے اپنے آپ کو کشتی طوفان میں پایا۔ لیکن اس بے خبری کو اپنے استغراق میں اس کی فرصت کہاں ملتی تھی کہ دنیا کو نظر اٹھا کے دیکھے اور اگر دیکھتا بھی تو وہاں سے کیوں کر نکلتا، کیونکہ بایں ہمہ بے خبری اس سے بے خبر نہ تھا، کہ اب تک جو کچھ ہوا ہے عشق کی ابتدائی منزلیں تھیں۔ آخری منزل طے کرنا باقی ہے اور وہ یہیں پیش آنے والی ہے۔‘

بیک دو زخم کہ خوردن زعشق امن مباش

کہ در کمیں گہہ ابر و کمان کش ست ہنوز

سرمد کے قتل کے اسباب تذکرہ نویسوں نے کئی بتلائے ہیں۔ سرمد کی ایک رباعی پر مفتیانِ وقت نے اسے منکرِ دین قرار دیا۔ سرمد پر دربارِ عالمگیری میں عائد کی گئی فردِ جرم میں ایک جرم اس کی بے لباسی بھی تھی۔ لیکن یہ سب صرف بہانے تھے۔ وہ خوب جانتا تھا کہ سرمد کوئی معمولی شخص نہیں بلکہ سارا شاہجہان آباد اس کا عقیدت مند ہے، اس لیے بہت معقول بہانہ مطلوب ہے۔ درحقیقت عالمگیر کی نظروں میں سرمد کا سب سے بڑا جرم دارا شکوہ کی معیت تھی چنانچہ وہ اسے کسی نہ کسی بہانے قتل کرنا چاہتا تھا۔

پڑھیے: دارا شکوہ، آگرہ کے محلات سے سندھ کے ویرانوں تک

بالآخر یہ طے پایا کہ علما و فضلا کو جمع کیا جائے اور تمام علماء کی جو رائے ہو اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ چنانچہ مجلس منعقد ہوئی، اس میں سرمد کو بلایا گیا۔ اس سے طرح طرح کے سوالات پوچھے گئے جن کی تفصیل تاریخ میں موجود ہے۔ سرمد جھوٹ کیسے بولتا؟ اس کا جرم یہ تھا کہ جو اس جام کو چھپ کر پیتے تھے، سرمد نے اعلانیہ منہ کو لگایا اور ہر سزا کا مستحق ٹھہرا۔ اپنے افکار سے تائب نہ ہوا تو قتل کا مستوجب قرار پایا۔ یہ واقعہ 1661ء کا ہے جب عالمگیر کی حکومت کو ایک سال سے کچھ زیادہ وقت گزرا تھا۔

دہلی میں سرمد کی قبر — بشکریہ blog.chughtaimuseum.com
دہلی میں سرمد کی قبر — بشکریہ blog.chughtaimuseum.com

جب سرمد کو جامع مسجد کے آگے کی طرف لے چلے تو تمام شہر ٹوٹ پڑا اور چلنا دشوار ہوگیا۔ جب جلّاد تلوار چمکاتا ہوا آگے بڑھا تو سرمد نے مسکرا کر اس سے نظر ملائی اور کہا ’تجھ پر قربان، آؤ آؤ جس صورت میں بھی آؤ، میں تمہیں خوب پہچانتا ہوں۔‘ ایک مؤرخ لکھتا ہے کہ اس جملے کے بعد سرمد نے یہ شعر پڑھا:

شورے شد و از خواب عدم چشم کشودیم

دیدیم کہ باقی ست شب فتنہ، غنودیم

(ایک شور بپا ہوا اور ہم نے خوابِ عدم سے آنکھ کھولی، دیکھا کہ شبِ فتنہ ابھی باقی ہے تو ہم پھر سو گئے)

اور مردانہ وار سر تلوار کے نیچے رکھ دیا اور جان دے دی۔

عالمگیر کے تخت نشین ہونے کے 15 ماہ بعد دارا شکوہ کو قتل کیا گیا اور اس قتل کے 8 ماہ بعد سرمد کو بھی قتل کردیا گیا۔ اس کے بعد ایک قَرن سے زیادہ عرصہ تک، حکومت کے اکثر لوگوں کا خیال رہا کہ یہ سرمد کے خون ہی کی نیرنگیاں تھیں کہ اس تمام مدت میں عالمگیر کو کبھی راحت و اطمینان کے دن نصیب نہ ہوئے۔ یہاں تک کہ پیغام اجل بھی آیا تو عالم غربت و پریشانی میں۔

ایک صدی میں 100 برس کے شب و روز اور موسم پنہاں ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو بھی کئی سو برس گزر گئے ہیں۔ ان برسوں کی دھند میں نہ جانے کیا کیا خس و خاشاک ہوگیا۔ بہت سارے ایسے بھی ہوں گے کہ جن کے نام کا بھی ہمیں پتہ نہیں چلا ہوگا۔ مگر جامع مسجد کے آگے سرمد کی قتل گاہ پر اب بھی ہر برس ہزاروں لوگ آتے ہیں اور اپنے دل و روح کو سکون دینے کیلیے کچھ پل یہاں آکر اپنی آنکھیں بھگوتے ہیں۔


حوالہ جات

۔ ’حیات سرمد‘ از مولانا ابوالکلام آزاد

۔ ’المیہءِ تاریخ‘ از ڈاکٹر مبارک علی

۔ ’تذکرہ اولیائے پاک و ہند‘ از ڈاکٹر ظہورالحسن

۔ ’سرمد ایک سمندر‘ آرٹیکل از عبدالقادر حسین

۔ ’برصغیر کے اولیاء اور ان کے مزار‘ از ایناسفوروا

۔ ’ادب اور مذہبی اصلاح کا تصور‘ آرٹیکل از ڈاکٹر مرزا حامد بیگ