میں نے اپنے دوست کو خط کیوں نہیں لکھا؟

28 اکتوبر 2018

ای میل

ایک دوست نے آج کے اس جدید دور میں خواہش ظاہر کی کہ میں اُسے خط لکھوں۔ اب ہمارا شمار روایتی طرز اِبلاغ سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھنے والوں میں ہوتا ہے، یہی سبب ہے کہ بطور طالب علم ’مطبوعہ ذرائع اِبلاغ‘ میں ہماری دلچسپی بہت زیادہ ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ کسی بھی پیغام یا متن کا الفاظ کے ساتھ ساتھ اپنی کسی طبعی (Physical) حالت میں بھی وجود رکھنا، اپنے گہرے اِبلاغی اور نفسیاتی اثرات رکھتا ہے، بنسبت کسی برقی رو سے روشن ہونے والے ’پردے‘ یا شیشے کے۔

بھئی دیکھیے نا، جب آپ ایک ہی ’آل ابلاغ‘ پر آپ اپنے پیاروں کے ’نامے‘ بھی پڑھ رہے ہیں، اسی پر دفتری مراسلت بھی کر رہے ہیں اور بہت سے ناپسندیدہ لوگوں سے بھی ہم کلام ہو رہے ہیں۔ اپنے مذہب کا مطالعہ بھی اسی پر ہے تو تفریحی سہولیات بھی اسی کے پردے پر جلوہ گر ہو رہی ہیں۔

غور کیجیے! اگر یہ تمام امور کسی کاغذ پر رونما ہوتے تو یقیناً بہت سے کاغذ ہمیں بے حد عزیز ہوتے، بہت سے صحیفے مقدس خانے میں ہوتے تو بہتیرے اہم دستاویز کے طور پر رکھے جاتے، بہت سے ناپسندیدہ کہہ کر پَرے کرتے اور جو ہٹانے ہوتے تلف کردیے جاتے۔ اگرچہ یہ کام ہم اپنے اِبلاغی آلے پر بھی کرتے ہیں، اب خود ہی فیصلہ کیجیے کہ دونوں میں کتنا فرق ہے!

بات خط لکھنے کی ہو رہی تھی اور میں لگا لیکچر دینے، تو سنو میرے دوست!

تمہاری خواہش تھی کہ میں تمہیں اپنے ہاتھ سے ایک خط لکھ کر اسے روایتی وسیلے یعنی ڈاک سے تمہاری اُور روانہ کروں، تو مجھے یاد آیا کہ میرے محلے کا ایک تنگ سا ’ڈاک دفتر‘ جس کی اُدھڑی ہوئی سریے جھانکتی خستہ چھت پر مجھے ہمیشہ منہدم ہونے کا خدشہ رہتا تھا، وہ اب برسوں ہوئے قصۂ پارینہ ہوچکا۔ گویا سرکار نے بھی یہی چاہا ہے کہ عوام کو خطوط اور پارسل بھیجنے کے نجی ذریعوں پر ہی مجبور کر دیا جائے!

یہ تو ہوگیا وسیلۂ ارسال کا باب، اب سنو ہمارا احوال، ہمیں بھی کوئی 6 برس ہوچکے کہ کاغذ سے محبت رکھنے کے باوجود ہم نے روایتی تحریر کے بجائے، زیادہ تر برقی تحریر کو ہی اختیار کرلیا ہے، یہ ایک طرف دفتری مجبوری تھی تو دوسری طرف اس میں ہمیں اپنی تحریر کی تدوین میں بہت زیادہ سہولت ملی اور سب سے بڑھ کر اپنے بُرے خط (لکھائی) کی خفت سے نجات بھی ملی۔

بھئی اسکول کے بچوں کے ہاتھ ہم سے کہیں خوبصورت طرز میں الفاظ لکھ لیتے، جس سے ہمیں بڑی شرمندگی ہوتی، اس پر سوا یہ کہ بہت بری لکھائی والے احباب کم سے کم اس اعتبار سے ہم سے بہتر ہیں کہ وہ جو لکھتے ہیں اُسے کوئی پڑھ پائے نہ پڑھ پائے کم سے کم وہ خود ضرور ایک نظر میں پڑھ لیتے ہیں کہ یہ بات لکھی ہے، مگر ہمارا شمار اُن لوگوں میں ہے جو بعض اوقات اپنی تحریر کے کسی لفظ پر ایسے اٹکتے ہیں کہ کسی طرح اس کے معنی نہیں کھلتے کہ آخر لکھا کیا تھا؟

کئی بار کہیں دبے ہوئے پرزے ایسے ملے کہ ہم نے اُسے دور پرے، اور آڑھا ترچھا کرکے چاہا کہ کسی طرح یہ لفظ سمجھ آئے، مگر نہ ہوا! گمان ہے کہ شاید ہماری تحریر کو ہمارے سمجھنے کے لیے بھی کوئی میعاد ہے، جی جس کے بیتنے پر ہم بھی اسے سمجھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں، اس مسئلے کی کوفت کو صرف ہم ہی سمجھ سکتے ہیں!

ہم دائیں ہاتھ کی 3 انگلیوں میں قلم پکڑ کر لکھنے کی دل فریب مشقت اور دونوں ہاتھوں کی 10 کی 10 انگلیوں کو بہ یک وقت کمپیوٹر کے بٹنوں پر برسا کر رقم کرنے کا موازنہ بھی خوب کرسکتے ہیں، کیوں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ کاغذ کے ذریعے ہم جس ’خلوص‘ کی اپنے مخاطب سے ترسیل کرسکتے ہیں، وہ برقی وسیلے میں میسر نہیں۔

گو کہ ہم ٹیلی فون کے زمانے میں پیدا ہوئے مگر ہم نے دیکھا کہ یہ سہولت ہر گھر میں نہ تھی، پھر بیرون شہر اور بیرون ملک فون کرنا اور بھی منہگا اور دشوار امر رہا، لیکن ہمارے اکثر متعلقین ایک ہی شہر میں تھے، اس لیے ہمارے والدین کو بھی خط لکھنے کی ضرورت کم ہی پڑی ہوگی، یہی وجہ ہے کہ اپنی تحریریں بھیجنے اور ڈاک سے ’ہمدرد‘ کی کتب منگانے سے ہم ناواقفیت کی وجہ سے کتراتے رہے، پھر کسی طرح سیکھا کہ ٹکٹ کتنے کا لگنا ہے اور کہاں ارسال کرنا ہوتا ہے وغیرہ۔

قصۂ مختصر ہم نے میٹرک کے زمانے میں جب یہ ساری شُد بُد لی تو پھر اس وسیلے کو خوب برتا بھی۔ کچی تحریر کے زمانے میں کئی بار ’رف‘ لکھ لکھ کر حتمی شکل میں لکھنا، غلطیوں سے لے کر جملوں کی نشست و برخاست اور ان میں تکرار سے بچنا ایک وقت طلب مشقت تھی، یہی کام ہم نے 6 سال پہلے تک اپنی تحریروں میں بھی کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ لکھتے ہوئے پلکیں ڈبڈبائیں تو آنسو بھی اُسی کاغذ میں کہیں گم ہو جاتا ہے، کبھی سیاہی بھی پھیل جاتی ہے۔ اگر یہ اَشک سنبھال بھی لیجیے تو آنکھیں پوچھی انگلیوں کی یہ تَر پوریں قرطاس کو چھو کر پڑھنے والے تک ہمارے جذبات خوب پہنچا دیتی ہے۔ پھر یہی کیا کم ہے کہ لکھی ہوئی تحریر میں کاغذ کے ذریعے ہمارا لمس بھی ہمارے مخاطب تک پہنچے۔

یہ سب ان جدید ذرائع میں کہاں میسر ہے صاحب، ہمارے پاس آج بھی 1960ء کی دہائی میں لکھے ہوئے ہمارے مرحوم دادا جی کے کچھ خطوط محفوظ ہیں، جن میں ہم آج بھی اُن کے وجود کی خوشبو پاتے ہیں، ایک رقعہ 15 برس قبل ہماری نانی کے نام اُن کے بھانجوں نے کلکتہ سے بھیجا، جس میں انہوں نے ہم سب کو شادی میں شرکت کی دعوت دی، اُس چھوٹے سے کاغذ کے ٹکڑے میں جو خلوص اور محبت لبریز ہے اُسے آپ ان جدید وسائل خطوط میں کیسے پاسکتے ہیں؟

سو اے میرے عزیز دوست! یہ سارے الفاظ تمہاری نذر اور سنو یہی وہ ساری ’مجبوریاں‘ ہیں جس نے تمہارے روایت پسند دوست کو بھی ایک حسین اور پرخلوص رِیت سے پرے کردیا، ورنہ یقین کرو ہم ’کاغذی پھول جیسے چہروں‘ کے اِس دور میں آج بھی ہم قلم وقرطاس پر واری واری جاتے ہیں۔