اسکینڈلز بھی 'فیس بک' کو پھیلنے سے روکنے میں ناکام

01 نومبر 2018

ای میل

— اے پی فائل فوٹو
— اے پی فائل فوٹو

فیس بک کو گزشتہ 2 برسوں میں کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے اور 2018 کے دوران تو کیمبرج اینالیٹیکا ڈیٹا اسکینڈ اور ہیکنگ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ فیس بک اب زوال کی جانب گامزن ہے مگر ایسا تاثر درست نہیں، درحقیقت یہ کمپنی اب بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ آمدنی اور صارفین کو اپنی جانب متوجہ کررہی ہے۔

فیس بک کی جانب سے جاری تیسری سہ ماہی مالیاتی رپورٹ میں مارک زکربرگ نے انکشاف کیا کہ اس وقت فیس بک کی ایپس (فیس بک، مینسجر، واٹس ایپ اور انسٹاگرام) کو روزانہ 2 ارب سے زائد افراد استعمال کرتے ہیں۔

اسی طرح فیس بک کی ایپس کے ذریعے لوگ روزانہ 100 ارب میسجز ارسال کرتے ہیں جبکہ ایک ارب سے زائد اسٹوریز اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

فیس بک کے اپنے ماہانہ صارفین کی تعداد 2 ارب 27 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ روزانہ ڈیڑھ ارب کے قریب افراد اس سماجی رابطے کی ویب سائٹ کو استعمال کرتے ہیں جوکہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے جبکہ کمپنی نے اس سہ ماہی کے دوران 13 ارب ڈالرز سے زائد کمائے۔

مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ کسی بھی سوشل نیٹ ورک کے مقابلے میں لوگ میسنجر اور واٹس ایپ پر تصاویر، ویڈیوز اور لنکس شیئر کرتے ہیں اور ہمیں بیشتر ممالک میں سبقت حاصل ہے۔

مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ ہمارا سب سے بڑی مخالف میسجنگ ایپ (جو اتنی قریب بھی نہیں)، آئی فون کی ڈیفالٹ ٹیکسٹ ایپ آئی میسج ہے۔

فیس بک نے اسنیپ چیٹ کو لگ بھگ کچل کر رکھ دیا ہے۔

فیس بک نے اسنیپ چیٹ کے فیچر اسٹوریز کو اپنی تمام ایپس کا حصہ بنایا اور اب ایک ارب سے زائد افراد اسے استعمال کررہے ہیں جبکہ اسنیپ چیٹ کے روزانہ صارفین کی کل تعداد ہی 18 کروڑ ہے۔

مارک زکربرگ نے ویڈیو کے ذریعے یوٹیوب کو بھی پیچھے چھوڑنے کا عزم ظاہر کیا اور ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وہ راز ڈھونڈ نکالا ہے جو کہ ویڈیو دیکھنے کے عمل کو مثبت تجربہ بنانے میں مدد دے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فیس بک کے مارکیٹ پلیس فیچر کو اب 80 کروڑ افراد استعمال کررہے ہیں جبکہ ملازمت تلاش میں مدد دینے والے فیچر کی بدولت 10 لاکھ افراد ملازمتیں تلاش کرنے میں کامیاب رہے۔

فیس بک کے بانی کے مطابق ترقی یافتہ ممالک (امریکا اور یورپ) میں ہوسکتا ہے کہ فیس بک اب مزید آگے نہ بڑھ سکے مگر ترقی پذیر ممالک میں اب بھی آگے بڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے پرائیویٹ میسجنگ اور اسٹوریز کو کمپنی کا مستقبل قرار دیا۔