والد کی میت حوالے کی جائے، جنت البقیع میں تدفین چاہتے ہیں، بیٹے خاشقجی

05 نومبر 2018

ای میل

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

استنبول میں قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بیٹے نے نم آنکھوں کے ساتھ اپنے والد کے جسد خاکی کی حوالگی کے لیے اپیل کردی۔

واشنگٹن میں نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے صلح اور عبداللہ خاشقجی نے اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ انہتائی نڈر، بہادر اور سخی تھے‘۔

33 سالہ عبداللہ خاشقجی کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، وہ زیادہ دردناک نہیں ہوگا اور انہیں پرسکون موت نصیب ہوئی ہوگی‘۔

مزید پڑھیں: ’خاشقجی قتل کی تحقیقات میں محمد بن سلمان بے گناہ ثابت ہوں گے‘

اپنے والد کی میت اب تک نہ ملنے پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اب تک اس غم سے باہر نہیں آسکے ہیں، ہم صرف اپنے والد کی آخری رسومات کی ادائیگی کرکے انہیں مدینہ میں جنت البقیع میں دیگر اہل خانہ کے پہلو سپرد خاک کرنا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس حوالے سے ہم نے سعودی حکام سے بات کی ہے اور امید ہے کہ یہ جلد ہوسکے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چند افراد میرے والد کی قتل پر سیاست کر رہے ہیں، جس کی ہم حمایت نہیں کرتے، عوامی رائے اہم ہے تاہم میرا ڈر یہ ہے کہ اسے سیاست زدہ کردیا گیا ہے، لوگ تجزیے کر رہے ہیں جو سچائی سے دور کرسکتی ہے‘۔

عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’میرے والد کے آرٹیکلز پڑھ کر اس کی گہرائی میں جاکر ان پر کوئی لیبل لگانا آسان ہے، اور یہ صرف لیبلز ہیں کوئی بھی حقیقت نہیں جانتا‘۔

جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں صرف ان ذرائع سے معلومات ملتی ہیں جن سے آپ کو ملتی ہیں اور اس سے بھی ہم پر بوجھ بڑھ رہا ہے، سب کو لگتا ہے کہ ہمارے پاس جواب ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس کوئی جواب نہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: 'جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے تیزاب میں تحلیل کیے گئے'

صلح خاشقجی کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد جدہ واپس جاکر دوبارہ اپنی بینک کی نوکری کا آغاز کریں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ڈر ہے کہ میرے اس اقدام پر سوشل میڈیا کیسا برتاؤ کرے گا، میں نے سعودی عرب چھوڑنے سے قبل سعودی ولی عہد سے ہاتھ ملایا تھا جس کی غلط تشریح کی گئی تھی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے اور حقائق سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ولی عہد نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، اور مجھے ان کی بات پر بھروسہ ہے ورنہ سعودی عرب نے اندرونی سطح پر تحقیقات کا آغاز ہی نہیں کیا ہوتا‘۔

جمال خاشقجی کا قتل: کب کیا ہوا؟

خیال رہے کہ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کا قونصل خانے کے اندر صحافی کے قتل کا اعتراف

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

تاہم ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب ملوث ہوا تو اسے سخت قیمت چکانا پڑے گی۔

17 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے نے معروف صحافی کی مبینہ گمشدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کا دورہ اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ملتوی کردی تھی۔

اسی روز سعودی صحافی خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی کا قتل: محمد بن سلمان کی بادشاہت خطرے میں پڑگئی؟

بعد ازاں سعودی عرب کے جلاوطن شہزادے خالد بن فرحان السعود نے الزام لگایا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی مبینہ گمشدگی کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے اور سعودی حکمراں کسی نہ کسی پر الزام دھرنے کے لیے 'قربانی کا کوئی بکرا' ڈھونڈ ہی لیں گے۔

دریں اثناء 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔