امریکا میں مڈ ٹرم الیکشن: ریپبلکنز پر ڈیموکریٹس کے غلبے کا امکان

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2018

ای میل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریلی سے خطاب کر رہے ہیں — فوٹو، اے پی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریلی سے خطاب کر رہے ہیں — فوٹو، اے پی

امریکا میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پر ڈیموکریٹس کے غلبے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

مغربی خبر رساں اداروں کے مطابق عوامی پول میں وسط مدتی انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2 سالہ اقتدار پر ریفرنڈم قرار دیا جارہا ہے۔

امریکا میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 4 سو 35 نشستوں پر ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس میں کڑے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ آج سے ہوگی، جن میں ریپبلکنز 9 جبکہ ڈیموکریٹس 24 سیٹوں کا دفاع کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔

مزید پڑھیں: پناہ گزینوں کا پیدائشی حقِ شہریت ختم کرنا چاہتا ہوں، ٹرمپ

یہاں واضح رہے کہ حکومتی جماعت ریپبلکنز کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں ہی میں برتری حاصل ہے۔

پولز کے مطابق ایونِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے برتری حاصل کرنے کا 87 فیصد امکان ہے، جبکہ سینیٹ میں ریپبلکنز کے اکثریت برقرار رکھنے کی توقع ہے۔

امریکی شہری حق رائے کے ذریعے 36 ریاستوں کے گورنر کا بھی انتخاب کریں گے۔

پولز کے مطابق ریاست مشی گن، وسکانسن، اوہایو اور پنسلوینیا میں ڈیموکریٹس کے گورنر منتخب ہونے کے امکانات روشن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں ووٹ ڈالنے کی حوصلہ شکنی پر ہزاروں ٹویٹر اکاونٹس ختم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کامیابی کے امکانات کو بڑھانے اور ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے الیکشن سے قبل اوہائیو، انڈیانا اور میسوری میں ریلیاں نکالیں۔

دوسری جانب کئی ریاستوں میں ایک روز قبل ہی ووٹ ڈالنے کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 3 کروڑ 50 لاکھ افراد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

امریکی سیکیورٹی اداروں کی ہدایت پر فیس بک نے وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے شبہے میں فیس بک کے 30 اور انسٹاگرام کے 85 اکاؤنٹس کو بلاک بھی کردیا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ٹوئٹر نے امریکا میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں شہریوں کو حصہ نہ لینے ترغیب دینے والے ہزاروں خودکار ٹوئٹر اکاؤئنٹس کو غیر فعال کر دیا جن میں سے اکثر خود کو ڈیموکریٹس کے طور پر ظاہر کر رہے تھے۔