کیا یہ 'عجیب سیارچہ' خلائی مخلوق کا جاسوس ہے؟

06 نومبر 2018

ای میل

اومواموا کی خیالی تصویر — فوٹو بشکریہ ESO/M. Kornmesser
اومواموا کی خیالی تصویر — فوٹو بشکریہ ESO/M. Kornmesser

اومواموا نظام شمسی سے باہر سے آنے والا ایسا سیارچہ ہے جس نے ماہرین فلکیات کو اس وقت سے الجھن میں ڈال رکھا ہے جب اسے گزشتہ سال پہلی بار دیکھا گیا۔

یہ ممکنہ طور پر 400 میٹر لمبا سیارچہ ہے جو کہ کائنات کے کسی حصے سے ہمارے نظام شمسی میں آیا ہے مگر اس وقت کیا ہو 'جب یہ کسی خلائی مخلوق کی جانب سے دانستہ طور پر زمین کی جاسوسی کے لیے بھیجا گیا جاسوس ہو'۔

یہ وہ وضاحت ہے جو سائنسی جریدے The Astrophysical Journal Letters کے حالیہ شمارے میں ہارورڈ اسمتھ سونین سینٹر کے سائنسدانوں کے تحریر کردہ مقالے میں سامنے آئی ہے۔

مزید پڑھیں : سیارچے یا ایسٹیرائڈز کیا ہیں اور ان کا عالمی دن منانے کا مقصد کیا ہے؟

اومواموا متعدد وجوہات کی وجہ سے کافی دلچسپی کا مرکز بن چکا ہے، سب سے پہلی اور بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ پہلا انٹرسٹیلر سیارچہ ہے جو کہ انسانوں نے دیکھا ہے، دوسری وجہ اس کی عجیب ساخت ہے، یعنی سپاٹ اور لمبا۔

تیسری اور ممکنہ طور پر سب سے اہم وجہ اس کی حرکت کا عجیب انداز ہے اور یہ کسی عام سیارچے کی طرح حرکت نہیں کرتا، بلکہ بہت تیزی سے گھومتا ہوا آگے کی جانب بڑھتا ہے جس کی وجہ سے اس کی چمک میں تیزی سے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔

سائنسدانوں نے اس کی عجیب حرکت کی وضاحت کرتے ہوئے متعدد ممکنہ وجوہات بھی بیان کی ہیں جیسے شمسی ریڈی ایشن دباﺅ، مگر پھر یہ خیالات عجیب ہوتے چلے گئے۔

مقالے کے مطابق 'اگر ریڈی ایشن دباﺅ رفتار بڑھانے والی طاقت کا کام کررہا ہے تو پھر یہ سیارچہ نئی طرح کے پتلے انٹرسٹیلر میٹریل کی نمائندگی کررہا ہے، اب وہ قدرتی طور پر ہو یا اس کی بنیاد مصنوعی ہو، یہ عمل نامعلوم طریقے سے کام کررہا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں : زمین کو سیارچے کے ٹکرانے سے بچانے کا منصوبہ

اور اس مصنوعی بنیاد پر سائنسدانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر اومواموا کسی ایلین تحقیقات کا حصہ ہوسکتا ہے، یعنی ایسی مکمل فعال تحقیقات جو کسی ایلین تہذیب نے دانستہ طور پر زمین کی جانب بھیجی ہو۔

ان سائنسدانوں نے یہ بھی بتایا کہ اس خیال کی تصدیق کے لیے کیمیائی راکٹوں یا دوربینوں کی مدد سے تصدیق کرنے کے لیے اب کافی تاخیر ہوچکی ہے، تو اب ہمیں حقیقت جاننے کے لیے کچھ عرصہ انتظار کرنا ہوگا۔