'ایران پر پابندی عالمی توازن خراب کرنے کی امریکی سازش'

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2018

ای میل

ترک صدر رجب طیب اردوان — فائل فوٹو، اے ایف پی
ترک صدر رجب طیب اردوان — فائل فوٹو، اے ایف پی

انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران پر لگائی جانے والی پابندی کا مقصد عالمی توازن خراب کرنا ہے۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناطولو سے بات کرتے ہوئے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندی مناسب نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تہران پر عائد اقتصادی پابندیاں عالمی قوانین کے مقابلے میں توازن کو خراب کرنے کی سازش ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا نے ایران پر ایک مرتبہ پھر مکمل اقتصادی پابندیاں عائد کردیں

اناطولو کے مطابق ترک صدر نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ عالمی قوانین اور سفارتکاری کے خلاف ہے، اور ہم اس سامراجی دنیا میں نہیں جینا چاہتے‘۔

واضح رہے کہ امریکا نے 2 نومبر کو اسلام جمہوریہ ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں، جس کا مقصد تہران کے بیکنگ سیکٹر کو تنہا کرنا اور اس کی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا۔

تاہم انقرہ کی جانب سے عندیہ دیا گیا تھا کہ وہ ان 8 ممالک میں شامل ہے جن پر ان پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔

خیال رہے کہ ترک صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا، جب ترکی کے وزیرِ خارجہ مولود جاویش اوغلو نے بیان دیا تھا کہ ایران کو تہنا کرنا ’خطرناک‘ ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکی پابندیوں کے سبب تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

انہوں نے کہا کہ جب ہم امریکا سے ایران پر عائد پابندیوں سے استثنیٰ مانگ رہے تھے، ٹھیک اسی وقت انہیں یہ باور کروایا گیا تھا کہ ایران کو دیوار سے لگانا درست فیصلہ نہیں۔

ترک وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی لوگوں کو سزا دینا ٹھیک نہیں جبکہ ایران کو دنیا سے الگ کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

مولود جاویش اوغلو نے کہا کہ ترکی پابندیوں کے خلاف ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ پابندیوں سے متعلقہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا خیال رہے کہ پابندیوں کے بجائے بات چیت راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، کیونکہ تعلقات بڑھانا اور بات چیت کرنا بہت فائدہ مند امر ہے‘۔


یہ خبر 07 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی