سپریم کورٹ نے سابق ایم ڈی پی ٹی وی عطاالحق قاسمی کی تقرری غیر قانونی قرار دے دی

اپ ڈیٹ 08 نومبر 2018

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کی تقرری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عطاالحق قاسمی بطور ایم ڈی لی گئیں مراعات اور تنخواہ کے حقدار نہ تھے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایم ڈی پی ڈی وی عطاالحق قاسمی کی تقرری سے متعلق ازخود نوٹس کا فیصلہ 12 جولائی 2018 کو محفوظ کیا تھا، جسے آج جسٹس عمر عطا بندیال نے پڑھ کر سنایا۔

مختصر فیصلے میں ایم ڈی پی ٹی وی کے تقرر کا ذمہ دار سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کو قرار دیا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: عطاء الحق قاسمی کی چیئرمین پی ٹی وی تقرری پر فیصلہ محفوظ

عدالتی فیصلے میں عطاالحق قاسمی کی طرف سے 19 کروڑ 78 لاکھ سے زائد کی لی گئی مراعات اور تنخواہوں میں سے کچھ حصہ پرویز رشید، اسحٰق ڈار اور فواد حسن فواد سے وصول کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عطاالحق قاسمی نے بطور ایم ڈی جو احکامات دیے وہ اور اپنی مدت کے دوران جتنی تنخواہ اور مالی فوائد حاصل کیے سب غیر قانونی ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عطاالحق قاسمی کسی بھی سرکاری عہدے کےلیے تاحیات نااہل ہوں گے۔

ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر ایم ڈی پی ٹی کا عہدہ خالی ہے تو مستقل طور پر تعیناتی کی جائے۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ کی جانب سے 48 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا، جو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیا۔

فیصلے کے مطابق عطاالحق قاسمی نے 8 کروڑ 80 لاکھ 46 ہزار 360 روپے تنخواہ وصول کی جبکہ اس کے علاوہ 15 کروڑ 22 لاکھ 92 ہزار 301 روپے دیگر اخراجات کی مد میں استعمال کیے گئے۔

اس کے علاوہ گاڑیوں کی مرمت اور فیول کی مد میں 12 لاکھ 11 ہزار 170 روپے کا استعمال کیا جبکہ اس رقم میں سے ان کی ذاتی گاڑی مرسڈیز ای 200 پر بھی خرچ ہوا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق 14 لاکھ 60 ہزار کمرے کے کرائے کی مد میں خرچ کیے گئے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عطاالحق قاسمی 19 کروڑ 78 لاکھ 67 ہزار 491 روپے کا نصف جبکہ 20 فیصد رقم پرویز رشید اور اسحٰق ڈار ادا کریں جبکہ 10 فیصد فواد حسن فواد ادا کریں گے۔

بعد ازاں عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ معزز جج نے فیصلہ سنایا ہے، اس پر ہمارا اختلاف اور نقطہ نظر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر وکلا سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کروں گا۔

یاد رہے کہ عطاءالحق قاسمی کو 23 دسمبر 2015 کو پی ٹی وی کا چیئرمین تعینات کیا گیا تھا تاہم ان کے حوالے سے تنازع اپریل 2017 میں سامنے آیا تھا جب انہوں نے خود کو ایم ڈی پی ٹی وی منتخب کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’عطاءالحق قاسمی کی بطور چیئرمین پی ٹی وی تقرری بدنیتی کا مظاہرہ تھی‘

تنازع سامنے آنے کے بعد اس وقت کے سیکریٹری اطلاعات سردار احمد نواز سکھیرا کو قائم مقام ایم ڈی پی ٹی وی تعینات کیا گیا تھا جبکہ انہوں نے دسمبر 2017 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بعد ازاں عطاءالحق قاسمی نے مبینہ طور پر وزرات اطلاعات و نشریات کے مایوس کن رویے سے دلبرداشہ ہو کر بطور چیئرمین پی ٹی وی 14 دسمبر 2017 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ٹی وی کی تقرری سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا اور ان پر ہونے والے سرکاری اخراجات کے آڈٹ کروانے کا بھی حکم دیا تھا۔