ٹرمپ سے بحث: سی این این کے رپورٹر کی وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی

اپ ڈیٹ 08 نومبر 2018

ای میل

سی این این کے چیف وائٹ ہاؤس رپورٹر جم اکوسٹا — اے ایف پی
سی این این کے چیف وائٹ ہاؤس رپورٹر جم اکوسٹا — اے ایف پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیوز کانفرنس کے دوران صحافی کو ’عوام کا دشمن‘ کہنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے سی این این کے رپورٹر کا پریس پاس منسوخ کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں عالمی نشریاتی ادارے سی این این کے رپورٹر جم اکوسٹا نے امریکا کے صدر سے روسی مداخلت کا سوال شروع ہی کیا تھا کہ امریکی صدر سیخ پا ہو گئے اور کہا کہ تم ’بدتمیز اور گھٹیا شخص ہو‘ اور ’عوام کے دشمن‘ بھی ہو۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے واقعے کے چند گھنٹے بعد ہی بیان جاری کرتے ہوئے جم اکوسٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’وائٹ ہاؤس اگلے نوٹس جاری کیے جانے تک صحافی کا پاس منسوخ کر رہا ہے‘۔

سارہ سینڈرز نے ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی صدر آزاد صحافت پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے اور ان کی انتظامیہ کی طرف آنے والے مشکل ترین سوالات کا خیر مقدم کرتے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی مداخلت سے متعلق سوال پر صحافی کو کھری کھری سنادی

انہوں نے مزید کہا کہ ’تاہم ہم کبھی کسی صحافی کو نوجوان خاتون، جو وائٹ ہاؤس کے انٹرن ہونے کی حیثیت سے اپنا کام کر رہی تھی، پر ہاتھ رکھنے کی اجازت کبھی نہیں دیں گے، یہ قابل قبول نہیں‘۔

جم اکوسٹا نے سارہ سینڈرز کے بیان کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے اس پر رائے دی کہ ’یہ جھوٹ ہے‘۔

معاملے پر سی این این کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’سیکریٹری سارہ سینڈرز نے جھوٹ کہا ہے، پریس پاس کو مشکل ترین سوال پوچھنے پر منسوخ کیا گیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سینڈرز نے جھوٹے الزامات لگائے اور ایسے واقعے کا ذکر کیا جو کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ انوکھا فیصلہ ہماری جمہوریت کے لیے خطرہ ہے، ہمارا ملک بہتر کا حقدار ہے، جم اکوسٹا کو ہماری پوری حمایت حاصل ہے‘۔

واضح رہے کہ امریکی صدر اور صحافی میں تلخ کلامی ان کے وسطی امریکا کے مہاجرین کا امریکی سرحدوں کی طرف آنے والے کاروان کے سوال کے بعد شروع ہوا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ’میرے خیال میں مجھے ملک چلانے دیا جائے آپ سی این این چلائیں، یہی بہتر ہوگا‘۔

امریکی صدر نے سی این این کے رپورٹر کو بیٹھنے کا کہا لیکن رپورٹر نے اپنا سوال جاری رکھا جس پر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید طیش آگیا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘وائٹ ہاؤس والے ٹرمپ کو خبطی اور بیٹی کو عقل سے پیدل سمجھتے ہیں‘

ڈونلڈٹر مپ نے قدرے غصے میں کہا کہ ’بس بہت ہوگیا، بس بہت ہوگیا، بیٹھ جاؤ‘۔

تاہم جم اکوسٹا نے امریکی صدر کے غصے کو خاطر لائے بغیر اپنے اگلا سوال پوچھا کہ ’کیا آپ کو روسی مداخلت پر تشویش ہے‘۔

جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ چاہتے ہوئے جواب دیا کہ ’میں کسی روسی مداخلت کو نہیں مانتا، یہ سب افواہ ہے‘۔

اسی دوران رپورٹر نے دوبارہ وضاحت چاہی تو ڈونلڈٹرمپ طیش میں آگئے اور کہا ’بس بہت ہوگیا،بیٹھ جاؤ، مائیک بند کرو‘۔

لیکن رپورٹر نے اپنا سوال جاری رکھا تو ڈونلڈٹرمپ پریس کانفرنس چھوڑ کر جانے لگے جس پر میزبان خاتون نے رپورٹر سے مائیکروفون لے لیا۔

ڈونلڈٹرمپ واپس روسٹرم پر آئے اور کہا کہ ’امریکی چینل کے لیے شرمناک ہے کہ تم جیسے رپورٹرز رکھے ہوئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’تم بہت بدتمیز شخص ہو تمہیں سی این این میں کام نہیں کرنا چاہیے‘۔

امریکی صدر کے تضحیک آمیز جملے پر رپورٹر نے کھڑے ہو کر اپنی بات کرنی چاہی تو ڈونلڈٹرمپ نے مزید کہا کہ ’تم غلط خبریں دیتے ہو تمہارا چینل چلتا ہے، تم لوگوں کے دشمن ہو‘۔