ڈی این اے ٹیسٹ سے مردہ ثابت ہونے والا شخص گھر کیسے واپس آیا؟

اپ ڈیٹ 08 نومبر 2018

ای میل

آئیگلی سیوپوگلی ایو — فوٹو: فیس بک
آئیگلی سیوپوگلی ایو — فوٹو: فیس بک

مرنے کے بعد کسی کا واپس آنا ناممکن ہے لیکن اگر کوئی اپنی تدفین کے چند ماہ بعد واپس آجائے تو گھر والے خوش بعد میں ہوں گے پہلے خوفزدہ ضرور ہوجائیں گے۔

قازقستان میں اس نوعیت کا منفرد واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک 63 سالہ شخص اپنی تدفین کے 2 ماہ بعد اچانک گھر پہنچا۔

بات دراصل کچھ یوں تھی کہ آئیگلی سیوپوگلی ایو کے انتقال کی تصدیق 'ڈی این اے' ٹیسٹ سے ہوئی تھی۔

اوڈیٹی سینٹرل کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی کو آئیگلی سیوپوگلی ایو کے عزیزوں نے قازقستان کے گاؤں تومارلی سے ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی۔

ان میں سے کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ آئیگلی سیوپوگلی ایو دور دراز علاقے میں ایک کھیت میں 4 ماہ کے لیے ملازمت پر گئے تھے اور انہوں نے اس کی اطلاع دینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔

تاہم ان کے لاپتہ ہونے کے چند روز بعد ہی ان کے گھر کے قریب سے ایک لاش ملنے پر ان کے عزیز و اقارب پریشان ہوگئے۔

لاش کی حالت اس قدر خراب تھی کہ ان کا خاندان آئیگلی سیوپوگلی ایو کی پہچان نہیں کرسکا اور ان کی موت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی تجویز دی گئی۔

مزید پڑھیں: ڈی این اے ایڈیٹنگ کے ذریعے زندگی محفوظ بنانا ممکن

حیران کن بات یہ ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ میں سامنے آیا کہ لاش آئیگلی سیوپوگلی ایو کی ہونے کے 99.29 فیصد امکانات ہیں۔

ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کردیا گیا اور ان کے بھائی نے تدفین کا انتظام کیا۔

وہ لاش، جسے ہر کوئی مان چکا تھا کہ آئیگلی سیوپوگلی ایو کی ہی ہے، اسے اتیراؤ کی تحصیل میں دفن کیا گیا لیکن اچانک دو ماہ بعد آئیگلی واپس لوٹ آئے۔

آئیگلی کے بھائی ایسینگلی نے بتایا کہ ’جب وہ صحیح سلامت گھر واپس آئے تو میری بیٹی اپنے مرے ہوئے چچا کو زندہ دیکھ کر متوقع ہارٹ اٹیک سے بچی‘۔

انہوں نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ سے معلوم ہوا تھا کہ جو لاش ہمیں ملی وہ میرے بھائی کی تھی، ہم نے ان نتائج کا یقین کرکے آخری رسومات کی ادائیگی کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اس پر اتنی رقم خرچ کی لیکن بات صرف پیسوں کی نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ جسے ہم نے دفنایا شاید اس کے رشتہ دار اس کی تلاش میں ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی جسم میں ڈی این اے کی لمبائی کتنی؟

آئیگلی سیوپوگلی ایو کے رشتہ داروں نے ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا لیکن وہ ڈی این اے ٹیسٹ کو بھولے نہیں ہیں اور طبی ماہرین کے خلاف مقدمہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تاہم ڈی این اے ٹیسٹ سے آئیگلی کی تصدیق کرنے والی طبی ماہر اكمارال زوبیٹائیرووا نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کے انتقال کی تصدیق کے لیے آپ 99.29 فیصد امکانات پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ’صرف ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ لاش اسی شخص کی ہے جس کی آپ کو تلاش ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'آپ اس ٹیسٹ میں باقی رہ جانے والے 0.7 فیصد کو نہ بھولیں‘۔

یہ واضح نہیں کہ آئیگلی سیوپوگلی ایو کے لیے قانونی طور پر دوبارہ زندہ ہونا کتنا مشکل ہوگا لیکن وہ اس تختی کے ساتھ تصویر کھنچوانے پر خوش تھے جو ان کے رشتہ داروں نے ان کی قبر پر نصب کرنے کے لیے بنوائی تھی۔