سندھ ہائی کورٹ کا لاپتا افراد کے کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار

09 نومبر 2018

ای میل

سندھ ہائیکورٹ کے حیدر آباد سرکٹ بینچ نے اپنے ریمارکس میں ملک میں لاپتا افراد کے کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ 'جب کوئی فرد لاپتا ہوجاتا ہے تو اس کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہوپاتیں'۔

جسٹس عبدالمالک غادی اور فہیم احمد صدیقی پر مشتمل سندھ ہائیکورٹ کے بینچ نے مذکورہ ریمارکس ایک کیس کی سماعت کے دوران دیئے جس میں درخواست گزار سلیمان بھاند نے اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے پٹیشن دائر کی تھی، وہ 2 سال قبل لاپتا ہوگئے تھے۔

عدالت عالیہ کے بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت 4 دسمبر کے لیے مقرر کرتے ہوئے حیدرآباد کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) ندیم احمد شیخ کو لاپتا فرد کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایات کرتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے سے استثنیٰ دے دی۔

مزید پڑھیں: 'پارلیمنٹ میں آج تک لاپتا افراد سے متعلق کوئی قانون سازی نہیں ہوئی'

ڈی آئی جی نے بینچ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ تمام متعلقہ ایس ایچ اوز کے لیے یہ ہدایات جاری کریں گئے کہ ان کی حدود سے کسی فرد کے لاپتا ہونے پر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

علاوہ ازیں دادو کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) نے پٹیشنر سلیمان اور ان کے رشتہ داروں کا مجرمانہ ریکارڈ پیش کیا، جسے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا۔

عدالت کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ مذکورہ کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اب تک 5 سیشنز کیے تھے تاہم لاپتا فرد سے متعلق کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتا افراد کیس: انصاف نہ ملنے پر خاتون کی کمرہ عدالت میں خودسوزی کی کوشش

ڈی آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی کا چھٹا سیشن ایس ایس پی دادو کی سربراہ میں ہوا تھا جس کی رپورٹ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے ذریعے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئی ہے۔

ادھر پٹیشنر کی جانب سے ڈی ایس پی پر 2 لاکھ روپے طلب کرنے کے لگائے جانے والے الزام کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی نے 2 ہفتے کی مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے انہیں وقت دے دیا۔

ڈی آئی جی نے انہیں یقین دہائی کرائی کہ وہ لاپتا فرد کو بازیاب کراکر اسے عدالت کے سامنے پیش کردیں گے۔

واضح رہے کہ مذکورہ کیس میں جے آئی ٹی نے تجویز دی کہ ڈی آئی جی سینئر افسران پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سلیمان نے بیان میں کہا ہے کہ ڈی ایس پی رسول بخش سیال نے ان کے بھائی غفور کو رہا کرنے کے لیے 2 لاکھ روپے طلب کیے تھے اور رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے ان کے بھائی کو رہا نہیں کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد سے خیبرپختونخوا میں تعینات ایس پی ’لاپتا‘

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کا بھائی غفور، جو مویشیوں کا بیوپاری تھا، 7 جنوری 2016 سے لاپتا ہے جس وقت ان کے پاس ڈھائی لاکھ روپے اور دیگر قیمتی اشیاء موجود تھیں۔

دادو کے ڈی ایس پی کی رپورٹ کے مطابق غفور کے خلاف 2000 سے 2014 تک 11 مقدمات درج ہوئے تھے جبکہ ان کے بھائی سلیمان کے خلاف 1989 سے 2015 کے دوران 14 مقدمات درج ہوئے تھے جبکہ 26 مقدمات سلیمان کے بیٹے فاروق کے خلاف 2010 سے 2015 میں درج ہوئے۔

اس کے علاوہ لاپتا فرد غفور کے بیٹے عبدالقادر کے خلاف 8 مقدمات درج ہیں۔


یہ رپورٹ 9 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی