خواجہ برادران کی عبوری ضمانتوں میں تیسری مرتبہ توسیع

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2018

ای میل

خواجہ سعد رفیق — فائل فوٹو
خواجہ سعد رفیق — فائل فوٹو

لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ برادران، سعد رفیق اور سلمان رفیق، کی عبوری ضمانتوں میں تیسری مرتبہ توسیع کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 26 نومبر تک خواجہ برادران کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے خواجہ برادران کی درخواست پر سماعت کی۔

خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق نے وکیل امجد پرویز کی وساطت سے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ نیب نے جو ریکارڈ مانگا وہ فراہم کردیا، خدشہ ہے کہ نیب کی جانب سے گرفتار کر لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: چیئرمین نیب نے ڈی جی لاہور کی میڈیا سے گفتگو کا ریکارڈ طلب کرلیا

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ نیب غیر قانونی طور پر گرفتار کرسکتی ہے اور ساتھ ہی استدعا کی گئی تھی کہ نیب کو ممکنہ گرفتاری سے روکا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور استدعا کی تھی کہ لاہور ہائیکورٹ حفاظتی ضمانت میں توسیع کرے۔

انکوائری تبدیل کرانے کی درخواست منظور

لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ برادران کی ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب سے انکوائری تبدیل کروانے کے لیے دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی اور عدالت نے چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب سے تحریری جواب طلب کر لیا۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ڈی جی نیب جانب دار ہو چکے ہیں، ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں بیٹھ کر میرے موکل پر الزامات لگائے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی جی نیب لاہور کی اصلی ڈگری جاری، سپریم کورٹ میں بھی کیس خارج

جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو وہی کچھ دے سکتے ہیں جس کی ہمیں قانون اجازت دیتا ہے، پتہ چلا ہے کہ چئیرمین پیمرا اس معاملے پر نوٹس لے چکے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے ڈی جی نیب سے انکوائری تبدیل کروانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور درخواست میں چئیر مین نیب اور ڈی جی نیب لاہور کو فریق بنایا تھا۔

خواجہ سعد رفیق کی گفتگو

خواجہ سعد رفیق نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نیب، انکوائری میں فریق بن چکے ہیں، ٹی وی چینلز پر غیر ضروری انٹرویوز دیے، وہ خود کومرد مومن کہتے ہیں اور دوسروں کو چور کہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو دھمکایا کہ میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں، پوری انکوائری کو جوائن کیا، 20 سال پہلے کے سوال کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیب افسران پر میڈیا کو انٹرویو دینے پر مکمل پابندی عائد

انہوں نے کہا کہ جبراَ مجھے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کا مالک بنایا ہوا ہے، اس پر میں اپنا حلفیہ بیان سپریم کورٹ میں دے چکا ہوں، یہ سب ہم مشرف دور میں دیکھ چکے ہیں، موجودہ حکومت اس میں شریک ہے۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ انصاف نہیں ہو رہا، کوئی احتساب نہیں ہوا، ہم جیل کاٹنے سے نہیں ڈرتے، جو قانون اور آئین سے کھلواڑ کر رہے ہیں، وہ سب آگے آئے گا۔