زلفی بخاری کیس: ’بڑے عہدوں پر تقرر اہم فریضہ، دوستی پر معاملات نہیں چلیں گے‘

اپ ڈیٹ 16 نومبر 2018

ای میل

زلفی بخاری سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش ہوئے—فوٹو: ڈان نیوز
زلفی بخاری سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش ہوئے—فوٹو: ڈان نیوز

لاہور: سپریم کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوست اور معاون خصوصی زلفی بخاری کی تمام معلومات، تقرر کا عمل اور اہلیت کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے زلفی بخاری کی بطور معاون خصوصی وزیر اعظم تقرر کے خلاف لاہور کے رہائشی محمد عادل چٹھا اور کراچی کے رہائشی مرزا عبدالمعیز بیگ کی درخواست پر سماعت کی۔

خیال رہے کہ 18 ستمبر کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قریبی دوست ذوالفقار حسین بخاری عرف زلفی بخاری کو اپنا معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی مقرر کیا تھا، تاہم بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔

ان درخواست پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی سماعت میں زلفی بخاری، ان کے وکیل اعتزاز احسن اور دیگر پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: زلفی بخاری وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی مقرر

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک کے اہم عہدوں پر تقرر کرنا اہم قومی فریضہ ہے لیکن دوستی پر یہ معاملات نہیں چلیں گے بلکہ قومی مفاد پر چلیں گے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں زلفی بخاری؟ اس پر زلفی بخاری نے انگریزی میں بات کی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اردو میں بات کرنی آتی ہے؟ اس پر زلفی بخاری نے کہا جی میں اردو بول سکتا ہوں۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ میں نے بی ایس سی پولیٹکل سائنس میں کیا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بہترین روابط ہیں اور برطانیہ میں 100 اعلیٰ پاکستانیوں میں شمار ہوتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے یہ تو پھر غرور والی بات ہے۔

اس دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ برطانیہ میں کام کیا کرتے ہیں؟ جس پر زلفی بخاری نے جواب دیا کہ برطانیہ میں پراپرٹی ڈویلپر ہوں، کاروبار پاکستان لانے کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں تک رسائی ہے اور لوگ مجھے جانتے ہیں۔

زلفی بخاری کے جواب پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پاکستان میں تو آپ کبھی نہیں رہے، جس پر زلفی بخاری نے کہا کہ 13 سے 18 سال کی عمر تک پاکستان سے ہی تعلیم حاصل کی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ممی ڈیڈی اسکول ہی ہوگا، جہاں سے تعلیم حاصل کی ہوگی۔

چیف جسٹس نے عدالت میں زلفی بخاری کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ آپ اپنا غصہ گھر چھوڑ کر آئیں، آپ کسی اور کے دوست ہوں گے یہ سپریم کورٹ ہے۔

اس دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ زلفی بخاری کو ان کے رویے کے بارے میں آگاہ کریں۔

سماعت کے دوران وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیے کہ معاون خصوصی کا تقرر کرنا وزیر اعظم کا اختیار ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم عوام کے ٹرسٹی ہیں، وہ اپنے من، مرضی اور منشا کے مطابق معاملات نہیں چلائیں گے، ہم طے کرینگے کے معاملات آئین کے تحت چل رہے ہیں کہ نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اعلیٰ عہدوں پر اقربا پروری اور بندر بانٹ نظر نہیں آنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: زلفی کا نام ای سی ایل سے نکالنے میں بہت پُھرتی دکھائی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری کو کس اہلیت کی بنیاد پر تقرر کیا گیا، کس کے کہنے پر سمری تیار ہوئی؟ کوئی خاصیت ہے زلفی بخاری کی؟ یا پھر کسی کا دوست ہونے کی بنا پر انہیں معاون لگایا گیا ہے؟ جس پر وکیل اعتزاز احسن نے بتایا کہ زلفی بخاری کو آئینی عہدہ نہیں دیا گیا، ان کا تقرر رولز آف بزنس کے تحت کیا گیا ہے، وہ کابینہ کے رکن نہیں، بیرون ملک پاکستان کے لیے دوہری شہریت کے حامل فرد کو ہی عہدہ ملنا چاہیے، ایسے شخص کے پاس برطانیہ اور پاکستان کا ویزہ ہو تو آسانی ہوتی ہے، وزیر اعظم تو باراک اوباما سے بھی مشورہ کرسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر تریس کیس میں ہم نے اقربا پروری کی حوصلہ افزائی نہیں کی، یہ معاون کی تعیناتی پر عدالت بندر بانٹ نہیں ہونے دے گی، جس پر اعتزاز احسن نے بتایا کہ زلفی بخاری کو اسسٹنٹ کی اسامی پر تعینات کیا گیا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے زلفی بخاری کی تمام معلومات، تقرر کا عمل اور اہلیت کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 5دسمبر تک ملتوی کردی۔