شیدی برادری کی فنکار خواتین اور ان کا مستقبل

ای میل

حکیمہ (دائیں) اور لبنیٰ (بائیں) کوٹری میں واقع اپنے گھر میں کراچی کی ایک شادی کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ — فوٹو جہانزیب رضا
حکیمہ (دائیں) اور لبنیٰ (بائیں) کوٹری میں واقع اپنے گھر میں کراچی کی ایک شادی کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ — فوٹو جہانزیب رضا

اس کی ابتدا ایک الوداعی سیٹی سے ہوتی ہے۔ جنوبی سندھ کے کوٹری جنکشن ریلوے اسٹیشن سے سکھر ایکسپریس کراچی روانگی کے لیے تیار ہے۔ انجن اور اس کے آگے لگی ہوئی بڑی سی بتی کے ایک ساتھ آن ہوتے ہی ریلوے ٹریک میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

ٹرین میں سوار سیکڑوں لوگوں میں 6 شیدی خواتین کا ایک گروہ بھی شامل ہے۔ شیدی پاکستان کی ایک اقلیتی قوم ہے اور یہ لوگ اپنا تعلق مشرقی افریقا کے قبیلوں سے جوڑتے ہیں۔ اسٹیشن تک چھوڑنے کے لیے آنے والے اپنے مرد رشتے داروں کو یہ خواتین الوداع کہتی ہیں اور پھر ٹرین کے پہیے گھومنے لگتے ہیں۔ بے تحاشہ سامان اٹھائے ہوئے یہ خواتین خود گرم شال پہنے ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے اپنے سر ڈھانپ رکھے ہیں۔

سب سے بڑی عمر کی خاتون حکیمہ تحکمانہ انداز میں پوچھتی ہیں: ’پان اٹھا لیے تھے نا؟‘ باقی پانچوں خواتین متحد ہوکر جواب دیتی ہیں ’جی ادی، ہم نے اٹھا لیے تھے۔‘

سب سے نوجوان لڑکی سرگوشی میں کہتی ہے، ’پان ان کے لیے ویسے ہی ہے جیسے کلاسیکی گائیکوں کے لیے شراب۔‘ اسی لمحے ہوا ان کے پردے کی لاج رکھے بغیر تیز چلتے ہوئے ان کے سروں سے آنچل اتار پھینکتی ہے۔ ان کے سختی سے باندھے گئے جوڑوں میں سے ان کے تیل لگے سیاہ بالوں کی لٹیں باہر نکلنے لگتی ہیں۔

ماضی کی کئی شیدی خواتین کی طرح یہ سفر درحقیقت کام کے سلسلے میں ہے۔ شیدی برادری کے مرد اکثریتی طور پر کھیتی باڑی، فیکٹریوں میں مزدوری، دکانداری یا دیگر اقسام کی محنت سے وابستہ ہوتے ہیں مگر گھر کے اخراجات بمشکل پورے ہو پانے کی وجہ سے خواتین بھی اپنے گھر چلانے کے لیے کام کرنے لگتی ہیں۔

تعلیم و ہنر کی کمی اور معاشی مواقع تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کچھ شیدی خواتین وہی کام کرتی ہیں جس میں وہ ماہر ہوتی ہیں: یعنی ناچنا اور گانا۔ امیروں کی شادیوں میں ناچ گا کر وہ اپنی زبان میں 'گھور' یا 'بخشش' کما لیتی ہیں۔

مزید پڑھیے: شیدی برادری کی فنکار خواتین

کراچی کے گورنمنٹ ڈگری کالج فار وومین کی سابق ڈین پروفیسر نزہت ولیم بتاتی ہیں کہ ’گھور کیش کی صورت میں دیا جاتا ہے۔‘ ان کا خاندان 2 سے 3 دہائیوں سے خواتین شیدی فنکاروں کی خدمات حاصل کر رہا ہے۔ روپے کے نوٹ اکثر دولہے کی پیشانی پر رکھے جاتے ہیں تاکہ نظرِ بد دور ہوسکے، اور پھر یہ خواتین ان نوٹوں کو اکھٹا کرلیتی ہیں۔ دوسری صورت میں پیسہ ہوا میں اچھالا جاتا ہے اور فنکار اسے زمین سے اٹھا لیتے ہیں۔ ولیم بتاتی ہیں کہ ’جتنا زیادہ گھور اچھالا جائے، لطف کا احساس اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔‘

’سندھ میں شیدی برادری‘ (Sheedi Community in Sindh) کے عنوان سے 2006ء میں ہونے والی ایک تحقیق انکشاف کرتی ہے کہ شیدی خواتین کی معاشی سرگرمیوں کا تقریباً 4.4 فیصد حصہ اس ختم ہوتے ہوئے پیشے پر مشتمل ہے۔ قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے محقق سکندر علی نظامانی کے مطابق شیدی خواتین دوسرے کام مثلاً گھروں میں کام کاج، کپاس چننا اور کڑھائی وغیرہ بھی کرلیتی ہیں مگر ناچنا اور گانا ثقافتی طور طریقے ہیں جو کبھی دیہی سندھ میں ان کا بنیادی روزگار ہوا کرتے تھے۔

2008ء میں ایفریکن ڈایاسپورا جریدے میں شائع ہونے والے ایک مضمون بعنوان Indian Oceanic Crossings: Music of the Afro-Asian Diaspora میں شیہان ڈی سلوا جے سوریا سمجھاتے ہیں کہ کس طرح غلاموں کی تجارت کا نشانہ بننے والے موسیقی کے ذریعے اپنے آباؤ اجداد سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں اور شیدی قبیلے کی ذیلی صحارائی افریقی جڑوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کا موسیقی سے لگاؤ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے اور غربت کی وجہ سے یہ ان کے لیے ایک فوری آمدنی کا ذریعہ بھی بن گیا۔

اگست 2016ء میں جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی نسلی تفریق کے خاتمے کی کمیٹی (UNCERD) کے 90ویں اجلاس کے موقع پر کمیونٹی کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی گئی۔ اس میں پاکستان کی میعادی رپورٹ کا جائزہ پیش کیا گیا تھا جس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ شیدی مزدور، بالخصوص خواتین حکومت کے بنیادی معاوضے اور موافق اقتصادی مواقع سے محروم ہیں۔

سینٹر فار سوشل جسٹس میں ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے سچل جیکب نے UNCERD کی رپورٹ پر کام کیا ہے۔ اس برادری کی محدود ملازمتی مواقع تک رسائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’ایک پورا سسٹم ہے جس کے موجود ہونے کی ضرورت ہے جس کی ابتدا تعلیم سے اور جس کا اختتام بہتر معیارِ زندگی سے ہوتا ہے۔‘ پہلے سے ہی پسماندگی کی شکار اس برادری کے اندر ایک ذیلی گروہ ہے جو مکمل طور پر آرٹ پر منحصر ہے اور یہ بندوبست پائیدار نہیں۔


ڈھائی گھنٹے بعد سکھر ایکسپریس اب کوٹری میں امو اور حکیمہ کی سنگت کہلانے والے اس گروہ کی منزل یعنی کراچی پہنچ جاتی ہے۔ امو آمنہ کا مخفف ہے جو اب زندہ نہیں ہیں۔ آمنہ کی جگہ 65 سالہ سکینہ اس گروہ کے ساتھ ہیں۔ 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین پس منظر میں بیٹھ کر دھنیں ترتیب دیتی ہیں جبکہ نوجوان لڑکیاں آگے آکر رقص کرتی ہیں۔

اس طرح کے فنکارانہ گروہ اپنی ساخت میں مدرسری ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت ماں سے بیٹی تک منتقل ہوتی ہے تو گروہ کا نام تبدیل ہوجاتا ہے۔ ویسے تو آمنہ کی بیٹی لبنیٰ نے گروہ کی قیادت سنبھال لی ہے مگر گروہ کا نام ابھی بھی تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔

کراچی میں اس شام کی تقریب کے لیے حکیمہ نے ایک قریبی گاؤں سے خود لڑکیاں چنی ہیں تاکہ مایوں کی تقریب میں فن کا مظاہرہ کریں۔ مایوں جنوبی ایشیا میں شادی سے پہلے کی ایک رسم ہوتی ہے۔ تقریب کی جگہ پر اپنے فن کی تیاری کے طور پر وہ زمین پر برتنوں کی ایک قطار سجاتی ہیں۔ لبنیٰ بتاتی ہیں کہ ان کے لیے اسٹیل کا چمچ، پلیٹ، ساتھ میں ایک ڈھولک اور ڈفلی کافی ہوتے ہیں۔ جس آسانی سے یہ گروہ ردھم پکڑتا ہے، اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ موسیقی ان کی فطرت میں رچی بسی ہوئی ہے۔

رانڑا تہنجا سہرا منایاں

موتی ہاراں، گل ہاراں، خوش تھی سہرا کیاں

(میرے پیارے، تمہارے دولہا بننے کی خوشی مناؤں، تمہارے دولہا بننے کی خوشی میں موتی اور پھول نچھاور کروں)

وہ روانی سے سندھی میں گاتی رہتی ہیں جبکہ نوجوان لڑکیاں اپنی جانب آتے نوٹ دیکھ کر کبھی کبھی مسکرا دیتی ہیں۔

حکیمہ جو اپنے گروہ کی سربراہ ہیں — فوٹو جہانزیب رضا
حکیمہ جو اپنے گروہ کی سربراہ ہیں — فوٹو جہانزیب رضا

نوجوان شیدی خواتین کے لیے خوشی کی تقریبات کاروبار ہیں۔ لبنیٰ کہتی ہیں کہ ’ہم بکنگ کی ایڈوانس فیس 10 ہزار روپے لیتے ہیں۔‘ گھور کتنی جمع ہوگی اس کا انحصار تقریب کے حجم پر ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’ایسے بھی مواقع رہے ہیں جب گھور ایک لاکھ روپے تک رہی ہے۔‘ مگر مایوں میں وہ 50 ہزار روپے تک کما لیتی ہیں۔ اتنا روپیہ 10 لوگوں کے خاندان کے لیے 3 ماہ تک کافی ہوسکتا ہے۔ مگر اب چونکہ ان کے فن کی طلب میں کمی واقع ہو رہی ہے تو یہ کمائی بمشکل ہی باقاعدگی سے آتی ہے۔

مزید پڑھیے: منگھو پیر: دیومالائی داستان سے سائنس تک

کسی دیکھنے والے کو اس پیشے کے طور طریقے مجرے جیسے محسوس ہوسکتے ہیں جو 16ویں صدی کے مغل راج کے دوران شاہی طوائفوں کا رقص ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ کئی اسے بُرا بھی سمجھتے ہیں۔

چنانچہ سندھ کے کئی حصوں میں شیدی خواتین کے پیشے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ 35 سالہ امبو جوگی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے کہ یہ خواتین اتنے زرق برق اور چست لباس پہن کر کہاں جاتی ہیں۔‘ ٹنڈو محمد خان کے شیدی پاڑے کے رہائشی امبو جوگی کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنی بیوی کو ان شیدی خواتین سے ملنے جلنے سے منع کردیا ہے جن کا روزگار ناچنے گانے سے وابستہ ہے۔‘

لبنیٰ اپنے گھر کی چھت پر کھڑی ہیں اور اپنی پڑوسن کو ہاتھ ہلا رہی ہیں — فوٹو جہانزیب رضا
لبنیٰ اپنے گھر کی چھت پر کھڑی ہیں اور اپنی پڑوسن کو ہاتھ ہلا رہی ہیں — فوٹو جہانزیب رضا

مگر اپنے خاندانی پیشے کے بارے میں لوگوں کی بدگمانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے گلناز کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کی والدہ اور نانی کے دور سے چلے آرہے اس کام کو عزت ملنی چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم طوائفیں نہیں ہیں۔ ہم لوک موسیقار ہیں جنہیں معاشرے میں عزت ملنی چاہیے۔‘

حکیمہ کے بیٹے طاہر مٹھو جو خود بھی پیشے کے اعتبار سے لوک موسیقار ہیں، کئی نسلوں سے شیدی خواتین کا پیشہ رہنے والے اس فن کے لیے بے انتہا عزت و تکریم رکھتے ہیں۔ بھلے ہی جب وہ کوک اسٹوڈیو میں ایک مرتبہ آنے کے بعد شہرت کی بلندی تک پہنچ گئے، تب بھی انہوں نے اپنی والدہ کو کام کرنے سے روکا نہیں۔


ہر سال اسلامی ماہ ربیع الاول اور ذی الحج میں جب شادیوں کا سیزن اپنی آب و تاب پر ہوتا ہے تو شیدی گھرانوں کو سادھ یا دعوت نامے بھیجے جاتے ہیں جن میں انہیں شادیوں میں فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے۔

چونکہ شیدی برادری کے ارکان اکثریتی طور پر اسلام کے صوفی مکتبہ فکر کی ایک شاخ کی پیروی کرتے ہیں اس لیے تقریبات میں گائے جانے والے گانوں میں صوفیانہ کلام بھی شامل ہوتا ہے۔ مگر حالیہ سالوں میں سہرے کے ثقافتی نغموں کی جگہ بڑی حد تک صوفیانہ کلام نے لے لی ہے۔

51 سالہ بلّو قمبرانی کے نزدیک یہ ارتقا ان الزامات کی وجہ سے ہوا ہے جن کے تحت خود کو مسلمان قرار دینے والے شیدی افراد کو بھی غیر مسلم سمجھا جاتا ہے۔ اپنی برادری کے کئی دیگر افراد کی طرح قمبرانی بھی اپنی اہلیہ و بچوں کے ساتھ کراچی سے بدین منتقل ہوجانے پر مجبور ہوگئے۔

’2010 کے بعد سماجی رویے بدتر ہوگئے۔ جنگجو گروہوں نے ہمیں منگھوپیر میں ہمارے گھر سے نکال دیا۔ ہم کیا کرسکتے تھے؟‘ شیدیوں کے لیے علاقہ بدری کوئی نئی بات نہیں ہے مگر کافر قرار دیا جانا نئی بات ضرور ہے۔

چنانچہ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے شیدی لوک موسیقاروں نے اپنے پیشے کے ذریعے اپنے عقیدوں کا اظہار کرنا شروع کیا۔ قمبرانی کہتے ہیں کہ ’آپ کو شیدی میلے میں 'یاعلی' کی آوازیں کسی بھی اور جگہ سے زیادہ سنائی دیں گی۔‘


مایوں کی تقریب کے بعد یہ گروہ اگلی صبح واپس کوٹری روانہ ہوجاتا ہے۔ اپنے چہرے ڈھانپے اور شام کی کمائی اپنے ساتھ لیے وہ اپنے شہر میں داخل ہوتے ہوئے لوگوں کی باتیں سننے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔

حکیمہ ایک مرتبہ پھر پوچھتی ہیں، ’لڑکیو، پان خریدنا یاد رہا تھا نا؟‘ مگر اس مرتبہ انہیں جواب صرف سر ہلا کر دیا جاتا ہے۔

لبنیٰ، جن کے شوہر وفات پاچکے ہیں اور اب وہ اپنی بیٹی لاریب کے ساتھ رہتی ہیں، کوٹری کے شیدی محلے میں واپس پہنچنے پر سب سے پہلے اپنی ساتھی مسافروں کو الوداع کہتے ہوئے اپنے اینٹوں سے بنے ہوئے گھر میں داخل ہوتی ہیں۔ مگر اپنے خاندان کے برعکس لاریب مستقبل میں اپنی والدہ کا پیشہ اپنانے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔

کئی دیگر نوجوان لڑکیوں پر بھی یہ بات صادق آتی ہے جو اب زمانوں پرانے اس پیشے سے ناطہ توڑ رہی ہیں۔ اب وہ تعلیم اور ہنر حاصل کررہی ہیں۔ یہ حالات کے خلاف ایک مشکل لڑائی ہے تاکہ اپنی برادری کی لڑکیوں کے لیے ایک زیادہ فائدہ مند راستہ تیار کیا جاسکے۔

لبنیٰ اور ان کی بیٹی لاریب — فوٹو جہانزیب رضا
لبنیٰ اور ان کی بیٹی لاریب — فوٹو جہانزیب رضا

مگر کچھ کا اب بھی ماننا ہے کہ ان کے راستے ماحول اور سماج کی وجہ سے پہلے سے متعین ہیں۔ امو اور حکیمہ کی سنگت کی ایک رقاصہ غزالہ کہتی ہیں کہ ’میں اس پیشے میں اپنی والدہ کی پیروی کرتے ہوئے آئی اور وہ اپنی والدہ کی۔‘ غزالہ جو اب 30 سال کی ہوچکی ہیں، کہتی ہیں کہ ’ہمارے سامنے اور کوئی انتخاب رکھا ہی نہیں گیا۔ ہمیں ہمیشہ سے یہی معلوم تھا۔‘

اپنی بیٹھک کی دیوار پر ایک چھوٹے سے شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر لبنیٰ چاندی کی بھاری بالیاں اتارتی ہیں۔ اس گھر کے 3 چھوٹے چھوٹے کمروں میں ایک درجن کے قریب لوگ رہتے ہیں اور اس گھر کی واحد آسائش اے سی ہے۔

لبنیٰ کہتی ہیں کہ ’یہ پیشہ شاید بہت عرصہ ہمارا ساتھ نہ دے سکے مگر مجھے امید ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔‘ یہ کہہ کر وہ اپنی بیٹی کو دیکھنے لگتی ہیں جو انٹر کے امتحانات کی تیاری کر رہی ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ فیچر ڈان اخبار میں 18 نومبر 2018 کو شائع ہوا۔