’نوکریاں نہ ہونے کا‘ جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں!

28 نومبر 2018

ای میل

وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے جب سے یہ کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اِبلاغیات کے طالبِ علموں کے لیے شاید اتنی نوکریاں نہ ہوں، تب سے بہت سے لوگ برہم ہیں تو بہت سے اپنا کلیجے تھامے ہیں، کیونکہ جب ’اطلاعات‘ کا وفاقی وزیر یہ بات کہہ رہا ہو تو پھر یہ بہت معنی خیز ہوجاتا ہے۔

بہت سے حلقوں نے اسے انتباہ سے زیادہ ’دھمکی‘ کہا، کہ فواد چوہدری ’ذرائع اِبلاغ‘ کے موجودہ بحران کو ’حقیقت کا جھٹکا‘ قرار دیتے ہیں، لیکن عجیب بات تھی کہ وہ مستقبل کے صحافیوں کی نوکریوں سے ناامید ہوکر بھی اگلے سانس میں ’پاکستان میڈیا یونیورسٹی‘ بنانے کی بھی بات کرجاتے ہیں۔

خیر، ہم جیسوں کا معاملہ یہ ہے کہ قلم کی یہ مزدوری ہماری روزی روٹی کا ایک وسیلہ ضرور ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ ہم کچھ اپنے شوق اور کچھ سماجی ذمہ داری ادا کرنے کی نیت سے اس ’وادی پُرخار‘ میں آئے، جہاں ہر لمحہ ہمارے ضمیر کی عدالت لگی رہتی ہے۔

یہ تو اتفاق تھا کہ جب ہم نے یہاں کا رخ کیا تو یہ شعبہ ایک دم بہت عروج پر گامزن ہوگیا اور پھر شہرت اور چمک دمک دیکھ کر بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے یہاں کا رخ کرلیا، ہم فقط نوکری کے پیچھے یہاں دوڑنے والے ہجوم میں کہیں کھو ضرور گئے، لیکن کبھی اس بھیڑ کا حصہ نہ بن سکے!

آج ہماری ضروریاتِ زندگی اس وسیلے سے پوری ضرور ہوتی ہیں، لیکن ہمارا شمار صحافیوں کے اس حلقے میں ہے، جن کا مطمع نظر تنخواہ اور مراعات سے زیادہ قلبی اطمینان اور سکون ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم مالیات کے اس گوشوارے میں اکثر ’خسارے‘ کا سودا کرتے ہیں، اور زیادہ مراعات کی بہت سی نوکریاں محض ضمیر کے عدم اطمینان کے سبب اختیار نہیں کرتے یا چھوڑ دیتے ہیں!

اس نگر میں ہمارا واسطہ ہر لمحہ سچ سے پڑتا ہے، پھر جب ہم کوئی سچ نہیں کہہ پاتے، تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ حقائق کی تصدیق یا عدم تصدیق کا معیار برقرار رکھیں۔ پھر ہم اپنی عادت سے مجبور ہو کر ناپسندیدہ اور کڑوے سچ کو کسی نہ کسی وسیلے سے راہ دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، یقیناً یہ ہماری نوکری کا حصہ نہیں ہوتا!

بدقسمتی سے ہمارے سماج میں لوگ سچ سننا تو چاہتے ہیں، لیکن صرف اپنی مرضی کا! یہاں ناپسندیدہ سچ لکھنے اور بولنے کی قیمت کم نہیں! اس کے باوجود ہم اپنی ذمہ داریاں ہر ممکن ایمانداری سے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہر لمحہ اپنے قلم اور مائک کو کسی بھی ’آلودگی‘ سے بچاتے ہیں۔

وہ خبریں بھی جو کبھی شایع یا نشر نہیں ہوتیں، اور وہ واقعات بھی جن کا ذکر 4 دن کے بعد نہیں رہتا، ساتھ میں ’ادارتی ہدایات‘ کی چھتری تلے کتنی دشواریاں جھیلتے ہیں، یہ ’دشواریاں‘ بھی اسی ’ضمیر‘ کے سبب ہوتی ہیں، اگر ہمیں ملازمت برائے ملازمت ہی مقصود ہو تو یقین مانیے ’لکیر کے فقیر‘ بن کے زندگی گزارنا بہت سہل ہے۔

جناب! ہم صحافت فقط ’نوکری‘ کے لیے نہیں کرتے، بلکہ اسے فرائض دینی کی طرح عزیز رکھتے ہیں! مختلف خبروں سے جڑے معاملات اور متعلقہ حکام سے تلخ و ترش سوالات پوچھنے کی ہمت ہم ہی کو کرنا ہوتی ہے۔ ہم استفسار کرتے ہوئے رائے عامّہ کی نمائندگی اور سچ کی کھوج کی بساط بھر کوشش کرتے ہیں۔ کہیں لفظوں کے چناؤ میں ہمیں بہت احتیاط کرنا پڑجاتی ہے کہ مبادا کوئی غیر تعمیری مطلب نہ نکالا جائے۔ اب خود بتائیے کہ کوئی بھی ’سر پھرا‘ صرف تنخواہ کے لیے اس قدر جان جوکھم میں ڈال کر کام کرنا پڑتا ہے کیا؟

شاید آپ سوچیں کہ ہم صحافت کا صرف ایک ہی رخ دکھا رہے ہیں، تو اطمینان رکھیے، جس طرح اچھے برے ہر محکمے میں ہوتے ہیں، اس نگری میں بھی ہیں۔ آپ تو صرف لفظ پڑھتے اور سنتے ہیں نا، ہم تو لفظوں کے پس منظر میں بہت دور تک واقفیت رکھتے ہیں۔

جس ’سچ‘ پر آپ ’واہ واہ‘ کرتے ہیں، ہم اس کے پسِ پشت ’کاریگری‘ پر آہ وبکا کرتے رہتے ہیں، ہم اپنی ان کالی بھیڑوں کی خوب خبر رکھتے ہیں، اور ان کے ’کیے‘ کا کفارہ بھی ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، گویا ہماری جان پہ یہ دُہرا عذاب ہوتا ہے!

آج ’سماجی ذرائع اِبلاغ‘ (سوشل میڈیا) سے ہر کَس و ناکَس خود کو ’صحافی‘ سمجھتا ہے۔ ’نامہ نگاری‘ سے تجزیوں اور تبصروں تک، سارے کام ہی یہاں انجام دیے جا رہے ہیں، مگر ’مدیر‘ کا کوئی وجود ہی نہیں، جو ’صحافت‘ کو صحافت کے درجے پر فائز کرتا ہے۔

کہاں ہم یہ کہنے کی پوزیشن میں آنے لگے تھے کہ اب تمام صحافتی اداروں میں پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ لوگ آجائیں گے اور جدید صحافت ’بلوغت‘ کے عہد میں داخل ہوگی، لیکن شومئی قسمت اس سے پہلے ہی اِسے ایک سخت بحران سے گزرنا پڑ رہا ہے، جس سے سب سے زیادہ اثرات متوسط طبقے کے صحافیوں پر پڑ رہے ہیں۔

کہیں یہ سوچ ہے کہ صرف رپورٹر کافی ہے، سب ایڈیٹر کی کیا ضرورت؟ تو کہیں ’کیمرہ مین‘ ہی مائک لے کر دوڑتا پھر رہا ہے، اور رپورٹر کی بھی ضرورت نہیں، یہ صحافت نہیں، بلکہ بہت بڑے المیوں کی علامات ہیں!

رہی وزیرِ اطلاعات کی یہ بات کہ اخبارات اور چینلز نجی ادارے ہیں، جنہیں اپنے ذرائع آمدن کے لیے سرکاری اشتہار پر تکیہ کرنے کے بجائے خود انحصاری اختیار کرنا چاہیے۔ ہم اس بات سے کیونکر اختلاف کرسکتے ہیں! پھر آج صحافت خالص نظریاتی دور سے کافی آگے نکل چکی۔ اب اگر صحافت میں کاروباری پہلو غالب ہے، تو پھر سرکاری اشتہار کا تقاضا تو بہت عجیب سی بات ہے۔

اور وزیر موصوف کی یہ فکر کہ ’اخبارات کی موجودہ ہیئت باقی رہے گی، یا ٹی وی کیا روپ دھارے گا؟‘ تو بصدِ عزت واحترام عرض ہے کہ اس کے لیے آپ ہرگز ہلکان نہ ہوئیے۔ لینے کے لیے اور بھی روگ بہت! یہ تو ارتقا کے تغیرات ہیں، انہیں اہلِ فکر اور سماجیات کے جوجھنے کے لیے چھوڑ دیں! اور یقین کیجیے یہ ’مصنوعی ذہانت‘ کی آمد سے لے کر ’کثرت معلومات‘ کی الجھن بھی آپ کا درد سری نہیں ہونا چاہیے۔ بھروسہ رکھیے کہ آنے والے کل میں یہ گنجلک فلسفیانہ مسائل اور سوالات آج جامعات میں اِبلاغیات وسماجیات پڑھنے والے طالب علم ہی حل کریں گے۔

مسئلہ یہ ہے کہ آج تھوڑی بہت نظریاتی سوچ رکھنے والے عامل صحافی اپنی ذمہ داریوں کی ادائی کے لیے کسی نہ کسی ادارے کے محتاج ہیں، عام صحافیوں کی اتنی بساط نہیں کہ کوئی اپنا ’ذریعہ اِبلاغ‘ بناسکیں، اس لیے اب ’صحافت‘ کے تمام شعبوں کو سر جوڑ کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا، تاکہ درپیش سنگین مسائل سے نبردآزما ہو کر بحرانی کیفیت کو دور کیا جاسکے۔