جعلی اکاؤنٹس کیس: بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2018

ای میل

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری (دائیں) اور ان کی بہن فریال تالپور (بائیں) ایک تقریب میں موجود ہیں — فائل فوٹو
سابق صدر مملکت آصف علی زرداری (دائیں) اور ان کی بہن فریال تالپور (بائیں) ایک تقریب میں موجود ہیں — فائل فوٹو

کراچی: سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ایک گواہ نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو بیان ریکارڈ کرادیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں واقع جے آئی ٹی کے آفس میں پیش ہوئیں۔

فریال تالپور نے مبینہ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے زرداری گروپ کے اکاؤنٹس میں رقوم کی منتقلی کے بارے میں سوالات کے جواب دیے۔

فریال تالپور کی روانگی کے بعد سابق صدر آصف زرداری بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیف جسٹس

اس دوران نوابشاہ سے آئے گواہ کو بھی بلایا گیا اور بیان ریکارڈ کیا گیا، تاہم ڈیڑھ گھنٹے سوالوں کے جواب دینے کے بعد آصف زرداری بھی روانہ ہوگئے۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو ایف آئی اے کا سوال نامہ مل گیا ہے، اور قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد جواب بھجوایا جائے گا۔

دوسری جانب چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ڈان کو بتایا کہ بلاول بھٹو کو ان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات سے متعلق ایک سوال نامہ موصول ہوا ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بلاول بھٹو کو جے آئی ٹی کی جانب سے طلب کیے جانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے پی پی چئیرمین کو طلب نہیں کیا، انہیں صرف سوال نامہ ارسال کیا گیا ہے جس کا جواب کل 29 نومبر تک جمع کرانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 30 بے نامی اکاؤنٹس سے 10 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف

خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹیڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

7 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

رواں برس نومبر کے آغاز میں سابق صدرِ مملکت کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا تو اس کا دفاع کر سکتا ہوں۔