کراچی میں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر جوڈیشل کمیشن برہم

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2018

ای میل

کمیشن نے کمشنر کراچی کو شہر میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے تمام ترمعلومات کے ہمراہ 12 دسمبر کو طلب کرلیا—فائل فوٹو
کمیشن نے کمشنر کراچی کو شہر میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے تمام ترمعلومات کے ہمراہ 12 دسمبر کو طلب کرلیا—فائل فوٹو

سندھ میں پانی اور صحت و صفائی کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر بنائے گئے جوڈیشل کمیشن نے صوبائی دارالحکومت اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پانی کی ’غیر منصفانہ تقسیم‘ پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر کراچی کو 12 دسمبر کو طلب کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس ریٹائر امیر مسلم ہانی کی سربراہی میں قائم کمیشن نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ اس دوران شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کر کے پانی کی فراہمی و تقسیم کے حوالے سے تمام تر معلومات جمع کی جائیں اور تفصیلی رپورٹ مرتب کر کے اس کو بہتر بنانے کی تجاویز کے ہمراہ پیش ہوں۔

اس کے ساتھ انہوں نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) پر پانی کے بہاؤ کو مانیٹر کرنے کے حوالے سے میٹروں کی تنصیب میں دلچسپی نہ لینے اور شہر میں پانی کی تقسیم کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں پانی تو ہے لیکن فراہمی کا نظام نہیں، سپریم کورٹ

کمیشن نے سیکریٹری بلدیات اور کے ڈبلیو ایس بی کے مینجنگ ڈائریکٹر کو بھی 12 دسمبر کو پیش ہونے کی ہدایت کی۔

غیر فعال میٹرز

کمیشن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کی مداخلت کے باعث نصب کیے گئے پانی کے 26 سو میٹرز میں سے 12 سو میٹر ناکارہ ہیں اور کے ڈبلیو ایس بی اس بارے میں کوئی ٹھوس وضاحت نہیں پیش کرسکا۔

خیال رہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے کمیشن کو بتایا تھا کہ شعبہ میٹر کی دیکھ بھال کرنے والے ایک افسر حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں اور ان کی جگہ نئے افسر نے ذمہ داری سنبھالی ہے۔

کمیشن نے اس وضاحت کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کے ڈبلیو ایس بی میں کوئی ذمہ دار نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: وفاق اور سندھ پانی بحران سے نمٹنے کیلئے ٹاسک فورس بنانے پر متفق

کمیشن کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میٹر لگانا ہی نہیں چاہتا، جس سے پانی چوری میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کے علاوہ پانی کی فراہمی جانچنے کا کوئی اور طریقہ موجود نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے عوام واٹر بورڈ کی مجرمانہ غفلت کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں جو آبی ذخیرے سے حاصل ہونے والے پانی کی مقدار اور صارفین کو کی جانے والی تقسیم کی درکار تفصیلات فراہم نہیں کررہا۔

اس کی وجہ سے شہر میں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم جاری ہے جو شہریوں کے لیے سخت مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔