سائبر سیکیورٹی مزید سخت کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک نے ’گائیڈ لائنز‘ جاری کردیں

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2018

ای میل

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے بینکوں بالخصوص مائیکرو فنانس بینکس (این ایف بیز) کو سائبر حملوں اور ان کے صارفین کو فراڈ سے بچانے کے لیے گائیڈ لائنز جاری کردیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حال میں ایک مقامی بینک کی جانب سے یہ رپورٹ دی گئی تھی کہ سائبر حملوں کے نتیجے میں کچھ صارفین 2 کروڑ 60 لاکھ روپے سے محروم ہوگئے تھے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا کہ تمام بینکوں اور ایم ایف بیز کو وسیع پیمانے پر اقدامات کرنے ہوں گے اور اپنے متبادل ترسیل کار نظام (اے ڈی سیز) اور ادائیگی کے نظام بشمول کارڈ نظام، آر ٹی جی ایس، سوئفٹ، انٹرنیٹ یا موبائل رینکنگ اور برانچ لیس بینکنگ میں خامیوں کی جانچ کے لیے ٹیسٹ کروائیں۔

مزید پڑھیں: بینکنگ فراڈ: ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک حکام کی رائے میں اختلاف

ایس بی پی کی جانب سے کہا گیا کہ تمام بینکس ٹیسٹنگ کے بعد ان رپورٹس کو ایکشن پلان کے ہمراہ پیمنٹ نظام ڈپارٹمنٹ (پی ایس ڈی) کو مارچ 2019 تک جمع کروائیں۔

اس کے علاوہ بینکوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنے اے ڈی سیز اور ادائیگی کے نظام کا تیسرے فریق سے آڈٹ کروائیں اور اس کی رپورٹ پی ایس ڈی کو 31 دسمبر 2019 تک جمع کروائیں۔

ایس بی پی کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا کہ تمام بینکس اور ایم ایف بیز یکم جنوری 2019 سے اپنے تمام صارفین کو بذریعہ ایس ایم ایس اور ای میل تمام ملکی اور بیرونِ ملک ٹرانزیکشن سے آگاہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن بینکنگ فراڈ: 2 شہری لاکھوں روپے سے محروم

مرکزی بینک کے مطابق مقامی بینک ہی کسی بھی اے ڈی سیز کو فعال بناتے وقت صارفین کے لیے اس کی تصدیق کو یقینی بنانے کے پابند ہوں گے، اگر اسے فعال بنانے میں ناکام ہونے اور صارف کا نقصان ہونے کی صورت میں متعلقہ بینک اس کا نقصان پورا کرے گا۔

ایس بی پی کے مطابق کارڈ کے اجرا کرنے والے بینکس کے پاس یہ قابلیت بھی حاصل ہوجائے گی کہ وہ اپنے صارفین کو ہی سرحد پر ٹرانزیکشن کے لیے کارڈ کو استعمال کرنے اور اسے بند کرنے کے لیے فعال بنادے گا تاکہ وہ خود ہی فیصلہ کرسکیں کہ کب کارڈ کو فعال بنانا ہے اور کب اسے بند کرنا ہے۔

علاوہ ازیں تمام بینکس 30 جون 2019 تک موجود کارڈز کو ای ایم وی چپ اینڈ پن پیمنٹ کارڈز سے تبدیل کردیں گے۔