'بلند دعوے کرتے ہیں خیبرپختونخوا کو جنت بنادیا'

03 دسمبر 2018

ای میل

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار — فائل فوٹو
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار — فائل فوٹو

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خیبرپختونخوا (کے پی کے) کے ہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے ہیں کہ صوبے میں ذہنی امراض کے ہسپتالوں میں لوگ جانوروں کی طرح رہ رہے ہیں، لوگ اپنے گھروں میں جانور اور کتے بھی ایسے نہیں رکھتے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت خیبرپختونخوا کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ پبلک ہسپتالوں کا سروے مکمل کروا لیا گیا، صوبے میں 63 سرکاری ہسپتال ہے اور ان سے یومیہ 4 ہزار کلو گرام فضلہ نکلتا ہے۔

مزید پڑھیں: 'عمران خان کے کزن پاکستان میں گڑبڑ کرکے واپس چلے جاتے ہیں'

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے پاس فضلے کو ٹھکانے لگانے کی کتنی صلاحیت ہے، جس پر صوبے کے سیکریٹری صحت نے جواب دیا کہ ہماری صلاحیت 36 سو کلو گرام فضلے ٹھکانے لگانے کی ہے، 4 سو 80 کلو گرام فضلہ ٹھکانے لگانے کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کر دیے ہیں۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت کو کہا کہ ذہنی امراض کے ہسپتال میں لوگ جانوروں کی طرح رہ رہے ہیں، اس طرح لوگ اپنے گھروں میں جانور اور کتے بھی نہیں رکھتے، ہسپتالوں میں زائد المعیاد ادویات نکلتی ہیں، آپ بلند دعوے کرتے ہیں کے پی کے کو جنت بنا دیا ہے، میں تو کہتا ہوں چلیں چل کر ہسپتال کی حالت دیکھ لیتے ہیں۔

چیف جسٹس کی جانب سے کے پی کے کی صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبہ کی کارگردگی پر بھی اظہار عدم اطمینان کیا گیا، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کس بنیاد پر کے پی کے کو صحت اور تعلیم میں جنت بنانے کی بات کرتے ہیں، مریضوں کو ادوایات میسر نہیں ہوتیں۔

یہ بھی پڑھیں: 50 لاکھ گھر بنتے رہیں گے تب تک کچی آبادیوں کیلئے کچھ کرنا ہوگا،چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ ذہنی امراض کے ہسپتال کا چند روز میں دورہ کروں گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) والے اتنے سالوں سے کہہ رہے تھے کہ ہسپتالوں کی حالت بہترکر دی ہے، 5 سال سے کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، 5 سالوں سے ہسپتالوں میں فضلہ ٹھکانے کا نظام نصب نہیں کر سکے؟

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ وزیر صحت کے پی کے عدالت آتے نہیں ہیں، سیکریٹری صحت عدالت میں آجاتے ہیں، نجی ہسپتالوں کا فضلہ کس نے اٹھانا ہے، ہسپتالوں کے فضلے سے انفیکشن ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کا بصارت سے محروم وکیل کو جج نہ منتخب کرنے کا نوٹس

سیکریٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ نجی ہسپتالوں کا فضلہ 860 کلو گرام ہے، نجی ہسپتالوں کے پاس 529 کلو گرام فضلہ ٹھکانے لگانے کا بندوبست ہے، جون تک فضلہ ٹھکانے لگانے کا کام مکمل ہو جائے گا۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے فضلہ ٹھکانے لگانے کے نظام کی تنصیب کے بارے میں ماہانہ بنیادوں پر کام کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ماہ تک کے لیے ملتوی کردی۔