’امریکا نے ایرانی تیل کی برآمد روکی تو کوئی بھی تیل برآمد نہیں کرسکے گا‘

04 دسمبر 2018

ای میل

ایرانی صدر حسن روحانی عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے — فوٹو : اے پی
ایرانی صدر حسن روحانی عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے — فوٹو : اے پی

ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں پر خبرادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکا نے ایران کے تیل کی برآمد کو روکا تو پھر کوئی بھی تیل برآمد نہیں کرسکے گا‘۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صدر روحانی نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ امریکا کو علم ہونا چاہیے کہ وہ ایران کے تیل کی برآمد روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا‘۔

ایرانی صدر نے ہزاروں افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اپنا تیل فروخت کر رہے ہیں اور یہ فروخت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ ایران کے تیل کی برآمد کو روکنے کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر خلیج فارس سے کوئی بھی تیل برآمد نہیں کرسکے گا۔

مزید پڑھیں : امریکا نے ایران پر ایک مرتبہ پھر مکمل اقتصادی پابندیاں عائد کردیں

خیال رہے کہ 1980 سے لے کر اب تک ایران بارہا عالمی دباؤ کے ردعمل میں خلیج فارس بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے لیکن کبھی اس پر عمل نہیں کیا۔

امریکا ایران کے تیل کی فروخت کو صفر تک لانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ اسے اقتصادی طور پر مزید کمزور کیا جاسکے۔

اس سے قبل جولائی میں صدر حسن روحانی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ امریکا کو شیر کی دم کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہیے‘۔

انہوں نے امریکی پابندیوں کے اقتصادی اثرات کو کم ظاہر کرتے ہوئے میڈیا کو ملکی مسائل کو بڑھا چڑھا کر بتانے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

صدر حسن روحانی نے کہاتھا کہ ’ کسی قسم کی مہنگائی ، شدید بے روزگاری ہمیں دھمکا نہیں سکتی لوگوں کو اخبارات میں ایسی باتیں نہیں کہنی چاہیئں۔

ایران کے سینٹرل بینک کی جانب سے مہنگائی پر جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں اشیائےخوردونوش کی قیمتوں میں 56 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : تیل فروخت کرکے امریکی پابندیوں کا مقابلہ کریں گے، ایرانی صدر

صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ’ کچھ مسائل ‘ ہیں جن سے متعلق 16 دسمبر کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں بتایا جائے گا‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ حکومت ضروری اشیا پر سبسڈی برقرار رکھے گی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

نومبر کے آغاز میں امریکا نے 2015 کے عالمی جوہری معاہدے کے تحت ایران پر سے اٹھائی جانے والی تمام اقتصادی پابندیاں ایک مرتبہ پھر مکمل طور پر نافذ کردی تھیں.

ان پابندیوں کا اطلاق 5 نومبر سے کیا گیا تھا جن کے دائرہ کار میں ایران کے توانائی، فنانشل اور جہاز رانی کے شعبہ جات شامل ہیں.

ان پابندیوں سے متعلق صدرحسن روحانی نے کہا تھا کہ ’ آج ایران تیل کی فروخت کے قابل ہے اور ہم اسے فروخت کرکے امریکی پابندیوں کا مقابلہ کریں گے‘۔

گزشتہ برس سے اب تک ایران کی کرنسی میں شدید کمی آئی ہے اور موبائل فون اور ادویات سمیت تمام اشیائے زندگی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔