امریکا: 48 گھنٹوں میں 2 یہودیوں پر ’حملے‘

04 دسمبر 2018

ای میل

امریکا میں نیویارک پولیس نے 48 گھنٹوں کے اندر2 یہودیوں پر حملے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'دی انڈیپینڈنٹ' میں شائع رپورٹ کے مطابق پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے عوام سے مدد طلب کرلی اور اطلاع دینے پر5 ہزار ڈالر انعام بھی مقرر کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: عبادت گاہ میں فائرنگ: گرفتار حملہ آور کا 'یہودیوں پر نسل کشی کا الزام'

بروکلین میں ایک یہودی پر مکا مارنے والے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہو چکی ہے۔

ویڈیا میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص یہودی کے عقب میں آیا اور زور دار مکا رسید کیا۔

مکا مارنے کے بعد ملزم تیزی سے فرار ہو گیا۔

پولیس نے دونوں حملوں میں مماثلت کے امکانات کو رد کیا تاہم اسے ’مذہبی نفرت‘ کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

دوسری جانب پولیس نے مشتبہ شخص کی گرفتاری میں معاونت فراہم کرنے والے کے لیے 5ہزار ڈالر (تقریباً 7 لاکھ روپے) انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔

مزیدپڑھیں: امریکا: اسکول میں فائرنگ سے پاکستانی طالبہ سمیت 10 ہلاک

اس حوالے سے محکمہ پولیس کے ریجنل ڈائریکٹر نے بتایا کہ راسخ العقیدہ یہودیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہودی آبادی اپنے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر خوفزدہ ہیں‘۔

دوسری جانب این وائے پی ڈی نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’نیویارک میں یہودیوں کے خلاف نفرت آمیز رویے میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔

ایف بی آئی کے مطابق امریکا میں 2017 میں یہودیوں کے خلاف حملوں کی تعداد میں 37 فیصد اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ 28 اکتوبر کو امریکا کے شہر پٹس برگ میں یہودی عبادت گاہ پر حملے کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا: یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ، 11 افراد ہلاک

حملہ آور کی شناخت رابرٹ بوئرز کے نام سے ہوئی جو اب پولیس کی تحویل میں ہیں، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

الیگینی کاؤنٹی میڈیکل آفس کے مطابق عبادت گاہ پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک شادی شدہ جوڑا، برنیس اور سیلوان سیمون اور دو بھائی ، سیسل اور ڈیوڈ روزینتھل شامل تھے۔