امریکی صدر کے وکیل کی ٹوئٹ میں غلطی، ٹرمپ 'غدار' کا ویب پیج بن گیا

04 دسمبر 2018

ای میل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی — فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی — فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی نے ٹوئٹ کی ٹائپنگ کے دوران معمولی غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک صارف نے 'ٹرمپ کو غدار بنادیا'۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق روڈی جولیانی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں فل اسٹاپ اور اس کے اگلے لفظ میں ایک اسپیس چھوڑا جس سے وہ خود بخود ایک ہائپرلنک بن گیا۔

مذکورہ ٹوئٹ میں ہائپر لنک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹویٹر صارف نے اسی لنک پر ویب سائٹ بنا دی اور یوں روڈی جولیانی کے مذکورہ ٹوئٹ میں لنک پر کلک کرتے ہی ایک نئی ونڈو کھلتی ہے جہاں ایک مختصر پیغام درج کیا گیا ہے کہ ’ ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے ملک کے لیے ایک غدار ہے ‘۔

روڈی جولیانی کی ٹوئٹ کو گزشتہ 4 روز سے اب تک 39 ہزار سے زائد مرتبہ لائک اور 14 ہزار مرتبہ ری ٹوئٹ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ٹوئٹر اس تحریر کو ہائپرلنک میں تبدیل کرتا ہے اگر وہ فل اسٹاپ کے بعد درج کیے گئے الفاظ کو ٹاپ لیول ڈومین کے طور پر پہچان لے۔

مذکورہ معاملے میں نیویارک کے سابق میئر نے بدقسمتی سے فل اسٹاپ کے بعد (in ) لکھ دیا تھا جو دراصل بھارتی حکام کے تحت چلنے والے ڈومین سے تعلق رکھتا ہے۔

روڈی جولیانی کو ٹائپنگ میں غلطی پر ٹیکسٹ کا رنگ سیاہ سے نیلا ہونے پر خبردار ہونا چاہیے تھا لیکن شاید انہوں نے دھیان نہیں دیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ویب سائٹ امریکی ریاست جیارجیا کے شہر اٹلانٹا میں مقیم مارکیٹنگ ڈائریکٹر کی جانب سے بنائی گئی ہے جو ٹوئٹ کے سامنے آنے کے چند گھنٹوں میں بنائی گئی تھی۔

مذکورہ ڈومین کے رجسٹریشن فارم سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویب سائٹ بنانے والے شخص نے کم ازکم ایک سال کے عرصے کے رائٹس کی ادائیگی کی تھی۔

اس کےساتھ ہی سیکڑوں افراد نے اصل پوسٹ پر جواب دے کر اس کی جانب توجہ دلا کر ٹائپنگ میں غلطی کا مذاق اڑایا۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’ آپ کو حقیقت میں اسپیس بار اسکلز پر کام کرنے کی ضرورت ہے ‘۔

ٹوئٹر صارف مائیکل آرون نے لکھا کہ ’یہ لنک ابھی تک موجود ہے اور اس کے مالک کا تعلق امریکی ریاست جیارجیا سے ہے‘۔

واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ روڈی جولیانی سے ٹویٹر میں ایسی غلطی سرزد ہوئی ہو، اس سے قبل رواں برس اگست میں بھی ٹائپنگ میں غلطی کی تھی جو کئی صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی تھی۔

اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کی جانب سے اس طرف توجہ دلانے کے باوجود انہوں نے تاحال اس ٹوئٹ کو ڈیلیٹ نہیں کیا۔