اٹلی: سسلین مافیا ‘گاڈ فادر’ پولیس کے ہاتھوں گرفتار

04 دسمبر 2018

ای میل

پولیس کے مطابق سیتیمو مینیو سمیت 46 افراد کو گرفتار کیا گیا—فوٹو:اے پی
پولیس کے مطابق سیتیمو مینیو سمیت 46 افراد کو گرفتار کیا گیا—فوٹو:اے پی

اٹلی کی پولیس نے سسلین مافیا کے سربراہ سیلواتورے توتو رینا کی وفات کے بعد متوقع نئے سربراہ سیٹیمو مینیوسمیت 46 کارندوں کو گرفتارکر لیا۔

خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق اطالوی حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے سسلین مافیا کے ‘باس آف باسز’ سیلواتورے رینا عرف تو تو کے بعد مافیا کے مبینہ سربراہ کو گرفتار کرکے مافیا کی کمر توڑ دی ہے۔

اٹلی کے وزیرداخلہ میتیو سیلوینی کا کہنا تھا کہ سسلین کے مرکز پالیرمو میں ہونے والی یہ کارروائی ‘غیر معمولی آپریشن تھا’۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس کو وائر ٹیپس کے ذریعے معلومات حاصل ہوئی تھیں کہ 29 مئی کو مافیا کے سربراہ کے چناؤ کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں سیتیمو مینیو کو مافیا کا سربراہ ‘کپولا’ منتخب کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ سربراہ کے انتخاب کے لیے ایک اجلاس ہوا تو جو نومبر 2017 میں رینا کی وفات کے کئی ماہ بعد طلب کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:سسیلین مافیا کا ’بیسٹ‘ توتو رینا چل بسا

اٹلی کے مافیا کے خلاف عدالت میں پیروی کرنے والے چیف پراسیکیوٹر کیفیئرو ڈی راہو کا کہنا تھا کہ 80 سالہ مینیو کا انتخاب خاص ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مافیا کا مرکز کورلیون سے پالیرمو منتقل ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ پالیرمو وہی جگہ جس کے حوالے سے مشہور ناول نگار ماریو پوزو نے 1969 میں شہرہ آفاق ناول ‘دی گاڈ فادر’ تخلیق کیا تھا

پالیرمو کے پراسیکیوٹر فراسیسکو لو وری کا کہنا تھا کہ گرفتار مافیا سربراہ مینیو اس سے قبل بھی طویل عرصےتک جیل میں رہے تھے اور ان کے خلاف 1980 اور 90 کی دہائی میں سسلین مافیا کے خلاف جاری ٹرائل میں مافیا سے منسلک رہنے اور دیگر جرائم کی بنیاد پر سزا سنائی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مافیا کے مقامی رہنماؤں میں بزرگ ہونے کے باعث مینیو کو زیادہ احترام حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گاڈ فادر تو مَر گیا، مگر اب سِسیلین مافیا کا کیا بنے گا؟

فراسیسکو لو وری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘اس سے پتہ چلتا ہے کہ سسلین مافیا نے اپنی اجارہ داری ختم نہیں کی ہے حالانکہ ان کے خلاف ٹرائل ہوا اور سزائیں بھی دی گئیں’۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ گرفتار مشتبہ افراد مافیا سے منسلک تھے اور ان پر بھتہ خوری، اسلحے کی خلاف ورزی اور دیگر الزامات تھے۔

خیال رہے اس سے قبل 1993 میں مافیا کے سابق سربراہ تو تو رینا کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد سسلین مافیا کی اجارہ داری میں بتدریج تنزلی دیکھی گئی تھی۔

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ مافیا نے اپنے مالی ذرائع کو مزید وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھا لیکن اس کارروائی سے سسلین مافیا کے سرغنہ کو پکڑا جا چکا ہے۔