اسرائیل میں گھریلو تشدد کے خلاف ملک گیر ہڑتال، احتجاج

05 دسمبر 2018

ای میل

اسرائیلی لڑکیاں ہلاک ہونے والی خواتین کے علامتی تابوت اٹھائے احتجاج کررہی ہیں — بشکریہ دی گارجین
اسرائیلی لڑکیاں ہلاک ہونے والی خواتین کے علامتی تابوت اٹھائے احتجاج کررہی ہیں — بشکریہ دی گارجین
تل ابیب میں گھریلو تشدد کے خلاف ملک گیر ہڑتال پر خواتین نے لال رنگ کے جوتے رکھ کر احتجاج کیا—بشکریہ دی گارجین
تل ابیب میں گھریلو تشدد کے خلاف ملک گیر ہڑتال پر خواتین نے لال رنگ کے جوتے رکھ کر احتجاج کیا—بشکریہ دی گارجین

اسرائیل میں خواتین کی جانب سے گھریلو تشدد کے خلاف ملک گیر احتجاج سے معمولات زندگی مفلوج ہوگئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے 2 لڑکیوں کو قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد اسرائیل میں رواں برس ہلاک ہونے والی لڑکیوں اور خواتین کی مجموعی تعداد 24 ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: بدعنوانی کے الزامات، اسرائیلی وزیراعظم سے 12ویں مرتبہ تفتیش

برطانوی نشریاتی ادارے دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق تل ابیب میں ہزاروں خواتین نے گھریلو تشدد کے خلاف حکومتی توجہ حاصل کرنے کے لیے لال رنگ کے جوتے مرکز میں رکھ دیئے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ اسرائیل کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں خواتین نے احتجاجاً دفاتر کا بائیکاٹ کیا اور مرکزی شاہراہیں بلاک کردی۔

مظاہرین نے ہلاک ہونے والی خواتین کی یاد میں چند لمحات خاموش اختیار کرکے خراج عقیدت پیش کیا۔

مظاہرین نے نعرے لگا ئے کہ ’بی بی، اٹھیں، ہمارا خون اتنا سستا نہیں ہے‘۔۔

مزیدپڑھیں: کرپشن الزامات: اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف گھیرا تنگ

خیال رہے کہ بی بی سے مراد اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ہیں۔

مرکزی شاہراوں پر ہلاک ہونے والی خواتین کی یاد میں لال رنگ بکھردیئے گئے۔

دوسری جانب اپوزیشن نے حکومت پر الزام لگایا کہ بنجمن نیتن یاہو گھریلو تشدد سے متعلق موجودہ پروگرام کی حمایت کرنے میں ناکام ہیں۔

زیونسٹ پارٹی کے رہنما کیسینیا نے کہا کہ ’تمام باتیں ترجیحات کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت کیوں تسلیم نہیں کیا جاسکتا؟

انہوں نے بتایا کہ گھریلو تشدد کے خلاف حکومتی پروگرام کے لیے 5 کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ تاحال منتقل نہیں کیے گئے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ’ویلفیئر کے دفاتر منہدم ہونے والے ہیں‘۔