مذہبی پیشوا کے جنم دن کی تقریبات، 220 بھارتی یاتریوں کو ویزے جاری

05 دسمبر 2018

ای میل

گرو شادارام صاحب  کے جنم دن کی تقریبات 5 سے 16 دسمبر تک جاری رہیں گی —  فائل فوٹو
گرو شادارام صاحب کے جنم دن کی تقریبات 5 سے 16 دسمبر تک جاری رہیں گی — فائل فوٹو

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن نے 220 سے زائد ہندو یاتریوں کو سکھر میں مذہبی پیشوا کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان کا ویزا جاری کردیا۔

ہائی کمیشن کے بیان کے مطابق پاکستان کا ویزا ان بھارتی یاتریوں کو جاری کیا گیا ہے جو سکھر میں شو اوتاری ست گرو سانت شادارام صاحب کے 310ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کرنے کے خواہش مند تھے۔

ہندو مذہبی پیشوا کے یوم پیدائش کی تقریبات 5 سے 16 دسمبر تک منعقد کی جائیں گی۔

پاکستان اور بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق 1974 میں تشکیل پانے والے فریم ورک کے مطابق ہر سال مختلف تقریبات اور تہواروں میں شرکت کے لیے ہندو اور سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد پاکستان آتی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت سے تعلقات پر پاکستان کے تمام ادارے ایک صفحہ پر ہیں، عمران خان

شادانی دربار 3 سو سال پرانا مندر ہے جو دنیا بھر میں ہندو یاتریوں کے لیے ایک مقدس مقام کا درجہ رکھتا ہے۔

شادانی دربار کی بنیاد 1786 میں ضلع گھوٹکی کی تحصیل میر پور ماتھیلو کے علاقے حیات پتافی میں شادارام سانت صاحب نے رکھی تھی، جو 1708 میں لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے یاتریوں کو ویزے مذہبی مقامات کے دوروں کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سکھ یاتریوں سے ملاقات سے روکنے کا بھارتی ہائی کمشنر کا الزام مسترد

پاکستانی حکومت کے اس اقدام سے مذہبی مقامات کے دوروں کے دوطرفہ فریم ورک کی پاسداری بھی ظاہر ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ 30 نومبر کو پاکستان سے تقریباً 3 ہزار 8 سو سکھ یاتری بابا گرو نانک کی 549ویں یوم پیدائش کی تقریبات میں شرکت کے بعد بھارت روانہ ہوئے تھے۔

بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات کے دوران 28 نومبر کو وزیر اعظم عمران خان نے ضلع نارووال کے علاقے کرتارپور میں قائم گردوارہ دربار صاحب کو بھارت کے شہر گورداس پور میں قائم ڈیرہ بابا نانک سے منسلک کرنے والی راہداری کا سنگِ بنیاد بھی رکھا تھا۔