پاکستان میں انصاف تیز ہے نہ سستا، سابق چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2018

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انصاف نہ تو تیز ہے اور نہ ہی غریب عوام کے لیے سستا ہے۔

وفاقی دارالاحکومت میں جناح سینٹر برائے قانون کے قیام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی عدالتوں میں کیسز سست روی کا شکار رہتے ہیں اور کبھی کبھی انہیں ختم ہونے میں 25 سال لگ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اشرافیہ یہ سمجھتی ہے کہ ملک بڑے لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے، لہٰذا وہ مخصوص قوانین اور آئینی ترامیم ہی نافذ کرتے ہیں جبکہ دیگر دفعات کو چھوڑ دیتے ہیں۔

سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ہر کوئی اپنے آپ کو بہت عقلمند سمجھتا ہے اور اسی سوچ کی وجہ سے لوگ اس نظام سے تنگ آگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: نئے چیف جسٹس نے سابق چیف کے احکامات معطل کردیے

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قانون چیف جسٹس، اداروں کے سربراہان اور عوام پر ایک جیسا نافذ ہوتا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ آزاد میڈیا کے بغیر احتساب کا تصور نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے تیز اور سستے انصاف کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا، اور نہ ہی وزارتِ خزانہ نے عدلیہ کو مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے ماضی میں کوئی کام کیا۔

وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی میں قانون کے میدان میں ریسرچ کے فقدان پر بھی روشنی ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘عمران خان عدلیہ کے لاڈلے نہیں‘

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کبھی بھی قانون کی حکمرانی کو نہیں دیکھا، اور زیادہ وقت پاکستان میں انفرادی شخصیت کی حکومت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں فوجی حکومت کے دوران اپنے خلاف مزاحمت سے بچنے کے لیے اپنی مرضی کے قوانین نافذ کیے جاتے رہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ضیا الحق کے دورِ اقتدار میں طلبہ یونین، تجارتی یونین پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکمران طبقے نے کبھی بھی پاکستان کے عوام کو کبھی ریاست کا حصہ نہیں سمجھا۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور تمام اداروں کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے کہ 1973 کے آئین کو مکمل طور پر ہر قیمت میں نافذ کیا جائے گا۔


یہ خبر 06 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی