عمران خان کہیں بینظیر بھٹو والی غلطی تو نہیں کر بیٹھے؟

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2018

ای میل

صرف 100 دن بعد ہی اگر خود کپتان جیسے پرجوش وزیر اعظم مڈ ٹرم الیکشن کی بات کرنے لگیں تو پھر دال میں محض کالا ہی کالا نظر آتا ہے—خاکہ ایاز احمد لغاری
صرف 100 دن بعد ہی اگر خود کپتان جیسے پرجوش وزیر اعظم مڈ ٹرم الیکشن کی بات کرنے لگیں تو پھر دال میں محض کالا ہی کالا نظر آتا ہے—خاکہ ایاز احمد لغاری

100 دن کے گھوڑے پر فراٹے مارتی تحریکِ انصاف کی قیادت بالخصوص اس کے قائد محترم وزیرِاعظم عمران خان کہیں اپنی حکومت کے 200 یا 400 دنوں بعد اس تاسف کا اظہار تو نہیں کر رہے ہوں گے کہ انہوں نے بھی وہی غلطی کی جو 3 دہائیوں قبل 10 سال کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ’اختیارات‘ لے کر پیپلزپارٹی کی قائد محترمہ بینظیر بھٹو نے کی تھی۔

جنرل ضیاءالحق کی 10 سالہ فوجی آمریت کے بعد آنے والی بینظیر بھٹو اور 2 دہائیوں سے زرداریوں اور شریفوں کی حکومت سے لڑتے لڑتے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ملنے والے اقتدار کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اکثر بلکہ بیشتر باتوں میں بڑی مماثلت ملے گی۔

نومبر 1988ء میں پیپلزپارٹی کی قائد قومی اسمبلی کی 205 نشستوں میں سے محض 94 نشستیں حاصل کرسکی تھیں۔ سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے انہیں مزید 9 ارکان کی ضرورت تھی۔

قیامِ پاکستان کے بعد سے ایوانِ اقتدار کی غلام گردشوں میں کھیل کھیلنے والے صدر غلام اسحاق ہماری اُس وقت کی سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی، یوں سارے پتے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھ میں تھے، اور اقتدار کے 2 بڑے ستون یعنی عدلیہ اور فوج بھی ان کے دائیں اور بائیں کھڑے تھے۔

یہ درست ہے کہ اس وقت نوجوان بھٹو پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں بھی اپنی جدوجہد اور قربانیوں کے سبب مقبولیت کی آخری حدوں کو چھورہی تھیں، یوں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے محترمہ کے مقابل منتشر اپوزیشن کو ترجیح دینا، اتنا آسان نہیں تھا۔ مگر مسئلہ ’بھروسے‘ کا بھی تھا۔ بھٹوز اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج کا پاٹنا اک آگ کے دریا سے گزرنا تھا۔

بینظیر پر ایک بڑا دباؤ برسوں سے تھانے، عدالتیں بھگتنے اور کوڑے کھانے والے جیالوں کا تھا، سو مجبوری دونوں کی تھی۔ مگر بہرحال فوقیت اسٹیبلشمنٹ کو حاصل تھی۔ بھارت کے ممتاز صحافی کرن تھاپر اپنی کتاب Devil's Advocate میں لکھتے ہیں کہ ’لندن میں اپنے اقتدار کے خاتمے کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ نومبر 1988ء میں اختیارات کے بغیر اقتدار لینا ان کی غلطی تھی۔‘

یہ بات ٹھیک بھی تھی ک غلام اسحاق خان جیسے صدر مملکت، وزیرِ خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان، اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کس طرح ’روٹی کپڑا اور مکان‘ عوام کو دیا جاسکتا تھا۔ اس پر اربوں روپے کے وسائل سے مالامال پنجاب کی نمائندہ ’جاگ پنجابی جاگ‘ کا نعرہ لگاتی شریفوں کی بپھرتی اپوزیشن۔

اگر صدر غلام اسحاق خان 24 ماہ بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کو برطرف نا بھی کرتے تو اسے گرنا ہی تھا کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ کی 13 بیساکھیاں ہی پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کے لیے کافی تھیں۔

یہ ساری تمہید میں نے اس لیے باندھی کہ ہمارے محترم خان صاحب یہ بھول بیٹھے ہیں کہ اپنی 23 سالہ دھرنوں اور احتجاجی سیاست کے بعد بھی 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وہ 342 ارکان کے ایوان میں اتنی اکثریت حاصل نہیں کرسکے ہیں کہ ایک کپتان کی حیثیت سے وزیرِاعظم کی کرسی پر مکمل اختیارات کے ساتھ سینہ تان کر بیٹھتے۔

151 نشستیں حاصل کرنے کے بعد انہیں 172 کی گنتی پوری کرنے کے لیے ہر اس پارٹی کی دہلیز پر اپنے نائب جہانگیر ترین کو بھیجنا پڑا کہ جن سے وہ دل ہی نہیں چیختی زبان کے ساتھ نفرت کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ میری مراد متحدہ قومی موومنٹ سے ہے کہ جس کے صرف 5 ووٹ لینے کے لیے 2 وزارتیں دینی پڑیں، اور پھر نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے کے ایک ووٹ، ہمہ وقت غصیلے سردار عطاءاللہ مینگل کے 2 ووٹوں اور پھر ہر دور میں اقتدار کے متمنی ق لیگ کے 5 ارکان کی حمایت سے حاصل ہونے والا اقتدار بہرحال ایسا نہیں ہوسکتا کہ جس پر تبدیلی لانے کا بھاری بھرکم نعرہ بلند کیا جائے۔

وزیرِاعظم بننے کے بعد 18 اگست کی تقریر امید سے بھرے ایک ایماندار وزیرِاعظم کی آواز تھی مگر جیسا کہ میں نے ابتدا میں بھی لکھا کہ صرف 100 دن بعد ہی اگر خود کپتان جیسے پُرجوش وزیرِاعظم مڈ ٹرم الیکشن کی بات کرنے لگیں تو پھر دال میں محض کالا ہی کالا نظر آتا ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان کے 100 دنوں کی معاشی و سیاسی کامیابی اور ناکامی پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے مگر معذرت کے ساتھ اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ کھلے دل سے اس کی ذمہ داری خود کپتان کو قبول کرلینی چاہیے۔

بدقسمتی سے آخری وقت تک بھٹو صاحب جیسا ذہین و فطین سیاست دان بھی اپنی غلطیوں، کمزوریوں کے اعتراف کے بجائے ساری ذمہ داری سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر ڈالتا رہا۔ اسی تجاہل عارفانہ کا اظہار ان کی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو بھی کرتی رہیں۔

بصد احترام، آصف زرداری اور نواز شریف سیاست کی اس پیڑھی میں نہیں آتے کہ دونوں نے جتنے برس اقتدار میں نہیں گزارے اس سے زیادہ وہ جیلوں اور عدالتوں کے پھیرے لگا رہے ہیں، اور ایسا سب کچھ کسی اصولی سیاست کی وجہ سے نہیں بلکہ کرپشن جیسے بدنام داغ کے سبب ہورہا ہے۔ لہٰذا صرف 100 دن بعد ہی اگر ہمارے محترم وزیرِاعظم کو مڈٹرم انتخابات یاد آنے لگے ہیں تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

مگر ایک بار پھر یہ بات دہرانے پر معزرت کروں گا کہ اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں وہ خود ہی ہیں۔ ایک سے زائد بار خان صاحب فرما چکے ہیں کہ وفاقی اور تینوں صوبوں میں جو بھی گورنر، وزارت، وزیر اور مشیر لگائے وہ ان کی اپنی ٹیم ہے۔ ذرا 40 وزیروں مشیروں، فوج ظفر موج پر نظر ڈالی جائے تو دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ ان میں سے 50 فیصد بھی کپتان کے کھلاڑی نہیں۔ ان میں اکثریت نے سویلین ملٹری حکمرانوں ہی نہیں شریفوں اور زرداریوں کے دسترخوان پر بھی ہاتھ صاف کیے ہیں۔

مسکین معصوم بلکہ مٹھو صورت لیے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیرِاعلیٰ کے بارے میں انتہائی تکبرانہ انداز میں یہ فرمانا کہ وہ ان کے نامزد وزیرِ اعلیٰ ہیں اور پورے 5 سال رہیں گے کسی پختہ سیاستدان کے بیان سے زیادہ مغلیہ دور کے بادشاہوں کی یاد دلاتا ہے۔