’صدرارتی آرڈیننس کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کی بھرپور مزاحمت کریں گے‘

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2018

ای میل

پی پی پی رہنماؤں کی پریس کانفرنس میں حکومت پر شدید تنقید—فوٹو ڈان نیوز
پی پی پی رہنماؤں کی پریس کانفرنس میں حکومت پر شدید تنقید—فوٹو ڈان نیوز

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شیری رحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں دیکھا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمان کو اکھاڑہ بنا کر رکھتی ہیں اس وقت صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صرف آپٹکس مینجمنٹ اور میڈیا مینجمنٹ ہے، جس میں ہمارے بہت سے اینکرز دوستوں کی بھی زبا ں بندی کردی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایوان میں پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے کام کے بجائے صدارتی آرڈیننس لانے کی باتیں ہورہی ہیں، ہر قسم کی قانون سازی صرف پارلیمان کےذریعے ہوگی، اگر زبردستی قانون سازی کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپنا بھرپور ردِ عمل دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 نئے قوانین جلد پارلیمنٹ میں پیش کریں گے، وزیر اعظم

انہوں نے کہا کہ ملک اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے اور ایسے وقت میں حکومت کی کابینہ میں ہی خلیج اور دراڑیں سامنے آرہی ہیں جبکہ حکومت اتنے دنوں میں منی بل کے علاوہ کوئی قانون سازی نہیں کرسکی۔

معیشت کے حوالے سے حکومتی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے رہنما پی پی پی کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں انتہائی اضافہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی جمع پونجیاں ختم ہوگئیں نہ ہی تیل کی قیمتیں کم ہونے کے ثمرات عوام تک منتقل کردیے گئے۔

شیری رحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت بیرونِ ملک سے قرضے حاصل کررہی ہے لیکن کسی ایک قرضے کی شرائط سے پارلیمان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ’انڈوں اور مرغیوں کی باتوں پر دنیا ہم پر ہنس رہی ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ وی آئی پی کلچر کو تنقید کا نشانہ بنانے والے آج خود پرائیویٹ جہازوں میں غیر ملکی دورے کرتے ہیں، عالمی مالیاتی فنڈ (ٓائی ایم ایف) سے قرض لینے جارہے ہیں یا نہیں، ہمیں کچھ نہیں بتایا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت صدارتی نفاذ کرنا چاہتی ہے ،خطے کے حالات مدِ نظر رکھتے ہوئے ملک کو بحرانی کیفیت سے نکالنے کے بجائے حکومت آمرانہ طرزِ عمل اختیا ر کرنا چاہتی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی رہنما نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وزیر اعظم کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ صدارتی آرڈیننس کی تجویز پیش کرے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کے صحافیوں کو انٹرویو پر اپوزیشن کی شدید تنقید

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں 3 آمر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے حکومت کرتے رہے لیکن آج پارلیمنٹ مضبوط ہے اور عوام کے منتخب نمائندے موجود ہیں اگر آرڈیننس کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم بھرپور مزاحمت کریں گے۔

پی پی پی رہنما نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے ٹی وی سے معلوم ہوا کہ ڈالر کی قیمت گر گئی جبکہ وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنے بیان میں کہا کہ اسٹیٹ بینک کے مانیٹرنگ بورڈ نے اس حوالے سے انہیں اور آگاہ کیا جس پر انہوں نے وزیراعظم کو اس بارے میں بتایا۔

مزید پڑھیں: 'بلند دعوے کرتے ہیں خیبرپختونخوا کو جنت بنادیا'

پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ اس صورتحال کے مطابق وزیراعظم یا وزیر خزانہ میں سے کوئی ایک غلط بیانی سے کام لے رہا ہے جس پر ان پر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کا نفاذ ہوتا ہے اور اس کے تحت دونوں میں سے کسی ایک کو عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔

پریس کانفرنس سے پی پی پی رہنما فرحت اللہ بابر نے بھی گفتگوکی جس میں انہوں نے فارم 45 کے حوالے سے فافن کی مرتب کردہ آڈٹ رپورٹ کا تذکرہ کیا۔